نائن الیون کے بعد امریکی جنگوں میں 9لاکھ 40ہزار انسان قتل،58کھرب ڈالر خرچ

 نائن الیون کے بعد امریکی جنگوں  میں 9لاکھ 40ہزار انسان  قتل،58کھرب ڈالر خرچ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)نائن الیون حملوں کے بعد امریکا کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف شروع کی گئی جنگوں میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران لاکھوں افراد جان سے گئے ۔

غیر ملکی میڈیا کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 2001 کے بعد امریکا نے افغانستان، عراق، شام، یمن، پاکستان، صومالیہ، لیبیا، نائیجیریا، وینزویلا اور ایران سمیت متعدد ممالک میں فضائی و زمینی کارروائیاں کیں، جن میں مجموعی طور پر تقریباً 9 لاکھ 40 ہزار افراد ہلاک ہوئے ۔رپورٹ کے مطابق صرف افغانستان، عراق، شام اور یمن میں امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں لگ بھگ 4 لاکھ 30 ہزار افراد مارے گئے ۔ اکتوبر 2001 میں شروع ہونے والی افغانستان جنگ تقریباً 20 برس جاری رہی، جس میں 2 لاکھ 43 ہزار افراد ہلاک ہوئے ، جبکہ مارچ 2003 میں عراق جنگ کے دوران 3 لاکھ 15 ہزار افراد جان سے گئے ۔ اسی طرح 2014 سے 2021 تک شام میں داعش کے خلاف کارروائیوں میں 2 لاکھ 69 ہزار اور یمن میں 2002 سے 2021 تک ایک لاکھ 12 ہزار افراد ہلاک ہوئے ۔تحقیق کے مطابق ان جنگوں پر امریکا اب تک تقریباً 58 کھرب ڈالر خرچ کر چکا ہے ، جبکہ معذور اور ریٹائرڈ فوجیوں کے اخراجات شامل کیے جائیں تو مجموعی لاگت 80 کھرب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ بیس برس سے زائد عرصے میں فوجی طاقت کا استعمال امریکی خارجہ پالیسی کا مرکزی عنصر بنا رہا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں