مودی کا دورہ اسرائیل، بھارت سفارتی مشکلات میں گھر گیا
دورہ خارجہ پالیسی سے انحراف ، بھارتی اپوزیشن نے بھی سوالات اٹھا دئیے دورے کی ٹائمنگ حساس، یہ نیتن یاہوکیلئے سفارتی سہارا ، عالمی ذرائع ابلاغ دورہ بھارت کیلئے سفارتی آزمائش بن سکتا ، عالمی سطح پر بھی سفارتی بحث چھڑ گئی
اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر) ایران پر حملے سے قبل بھارتی وزیرِاعظم مودی کے دورہ اسرائیل نے عالمی سطح پر نہ صرف سفارتی بحث چھیڑ دی بلکہ بھارت سفارتی مشکلات میں گھر گیا ، مو دی کے دورے سے سفارتی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ، بین الاقوامی میڈیا اور بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے دورے کی ٹائمنگ، مقاصد اور پس منظر پر سنگین سوالات اٹھا دئیے ۔رپورٹس ے مطابق مودی نے اسرائیلی وزیرِاعظم سے ملاقاتیں ایسے وقت میں کیں جب خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی ، ناقدین کا کہنا ہے کہ ایران پر حملے سے قبل دورے نے بھارت کو سفارتی سطح پر مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ،برطانوی جریدے کے مطابق مودی کا دورہ اسرائیل کی متنازع حکومت کیلئے سیاسی سہارا ثابت ہوا۔ الجزیرہ نے دعوی ٰکیا کہ بھارت نے غزہ کی صورتحال کے تناظر میں اسرائیل کو مختلف شعبوں میں تعاون فراہم کیا ۔امریکی نشریاتی ادارے بلومبرگ نے دورے کی ٹائمنگ کو سفارتی طور پر حساس اور خطرناک قرار دیتے ہوئے لکھا کہ اسرائیلی پارلیمنٹ میں دیا جانے والا اعزاز زیادہ تر علامتی نوعیت کا تھا ۔اسرائیلی صحافی نے بھارتی ویب سائٹ دی وائرمیں شائع مضمون میں مودی کو نیتن یاہو کی انتخابی مہم کا سیاسی اشتہار قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ اس دورے کا ایک مقصد سابق امریکی صدر ٹرمپ تک رسائی اور حمایت حاصل کرنا بھی ہو سکتا ،ریٹائرڈ امریکی کرنل اور سابق مشیر ڈگلس میکگریگر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران امریکی بحری جہاز بھارتی بندرگاہوں پر لنگر انداز ہو رہے ہیں اور سازوسامان اتار رہے ہیں، ان کے اس بیان نے خطے میں بھارت کے کردار سے متعلق مزید سوالات کو جنم دیا ہے ۔ بھارت کی بڑی اپوزیشن جماعت انڈین نیشنل کانگریس سمیت دیگر جماعتوں نے دورے کو خارجہ پالیسی کی ناکامی قرار دیا ہے ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مودی کا یہ دورہ بھارت کے لیے سفارتی آزمائش بن سکتا ہے ۔