امریکا کا رجیم چینج ایجنڈا بھی بری طرح بے نقاب

 امریکا کا رجیم چینج ایجنڈا  بھی بری طرح بے نقاب

(تجزیہ:سلمان غنی) ایران کے خلاف امریکا کی جنگی صورتحال طاری ہے ۔ ایرانی صدر مسعود نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ بعض ممالک ثالثی کیلئے سرگرم عمل ہیں ،

 دوسری جانب صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ،جبکہ غیر جانبدار ماہرین کا کہنا ہے کہ بلاشبہ ایران امریکا کے مقابلہ کی پوزیشن میں نہیں لیکن ایران کی جانب سے سرنڈر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،وہ تمام تر مالی و جانی نقصانات کے باوجود ردعمل جاری رکھے گا ۔دوسری طرف بقول صدر ٹرمپ کے ہمارا خیال تھا کہ ایران ہمارے حملوں کی تاب نہ لاتے ہوئے سرنڈر کر دے گا مگر حیرانگی ہے ایران کیوں کھڑا ہے ۔ لہٰذا اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ وہ کونسے ممالک ہیں جو ثالثی پر زور دے رہے ہیں، اگر زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو بلاشبہ ایران کا نقصان ہو رہا ہے لیکن ایرانی لیڈر شپ اور عوام ڈرے اور سہمے نظر نہیں آ رہے جبکہ اسرائیلی شہروں میں لوگ گھروں میں نہیں بنکروں میں پناہ لئے ہوئے ہیں ، جوں جوں جنگ کا سلسلہ دراز ہوتا جا رہا ہے صدر ٹرمپ پینترے بدلتے نظر آ رہے ہیں ،حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ کا اس کے سوا کوئی جواز نہیں کہ امریکا دنیا پر اپنی حاکمیت اور خود کو چیلنج کرنے والوں کو اپنے زیر لانا چاہتا ہے ، مگر ایران ہے کہ پسپائی کیلئے تیار نظر نہیں آ رہا۔مطلوبہ نتائج نہ ملنے پر اب امریکی انتظامیہ ایران کو بیرونی جنگ کی تباہی کے ساتھ ساتھ خانہ جنگی میں دھکیلنے کیلئے کرد باغیوں کو ایران میں بھیج رہی ہے ۔

اس صورتحال میں اب اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی کوئی وقعت نظر نہیں آ رہی ،چین جو ایک بڑی معاشی قوت ہے مگر وہ بھی مذکورہ صورتحال میں عملاً کوئی کردار ادا نہیں کر رہا مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ پل بھر میں منظر تبدیل ہو رہا ہے ۔ امریکا، اسرائیل جتنی طاقت کا استعمال کرتے جا رہے ہیں ایرانی ردعمل بھی بڑھ رہا ہے اور اب صدر ٹرمپ جس سرنڈر کی بات کر رہے ہیں وہ بھی ان کی خام خیالی نظر آ رہی ہے ،ثالثی کا عندیہ دینے والوں میں بڑی طاقتیں خصوصاً روس چین اور پاکستان ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ جنگ و جدل کے نتیجہ میں انسانی جانوں کا ضیاع ہو اور خطے میں کشیدگی بڑھے لہٰذا ان کے خیال میں اس مرحلہ پر کوئی درمیانی راستہ نکالا جائے لیکن کیا ایران اس حوالہ سے تیار ہوگا تو ایرانی جنگ بندی تو قبول کر سکتا ہے لیکن وہ کسی طرح قیادت کی تبدیلی کو تسلیم نہیں کرے گا کیونکہ اسے نظر آ رہا ہے امریکاکا رجیم چینج کا پلان بری طرح متاثر ہوا ہے ،دوسری جانب سعودی عرب نے بھی ہمیشہ پاکستان کے کاندھے سے کاندھا جوڑے رکھا ہے اور ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کرتا رہا ہے ،یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے لئے کوششیں شروع کر رکھی ہیں،کچھ خلیجی ممالک بھی اس میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ،امریکہ اور اسرائیل بظاہر ایران کو گرانا اور جھکانا ہی نہیں چاہتے وہ ایک بڑے ایجنڈے اور بڑے کھیل پر گامزن ہیں،اگر انہیں اس جنگ میں فتح ملتی ہے تو پھر اس کھیل کے ڈانڈے دور تک جائیں گے ، پھر پاکستان کے لئے بھی یہ عمل خطرے کی گھنٹی ہوگی، یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے امریکی حملہ کی مذمت کی اور پاکستان اس بڑے کھیل کے جواب میں بڑی اور گہری سفارتی مہم پر ہے اور مقصد امریکہ اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کا راستہ روکنا ہے کیا ایسا ممکن بن پائے گا یہ دیکھنا ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں