کنسٹرکشن سیکٹر کی بحالی کیلئے ٹیکس ایک فیصد کیا جائے :ایس ایم تنویر
فائلر کی مختلف کیٹیگریز ختم کی جائیں :سرپرست اعلی ٰ یونائیٹڈ بزنس گروپ سرمائے کا بیرونِ ملک انخلا روکنے کیلئے مالیاتی اصلاحات ناگزیر ہیں:ذکی اعجاز
لاہور( کامرس رپورٹر)فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی)کے ریجنل آفس لاہور میں ریجنل چیئرمین و نائب صدر ذکی اعجاز اوریونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی)کے سرپرستِ اعلیٰ ایس ایم تنویر نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ کنسٹرکشن سیکٹر کی بحالی کے لئے سیکشن 236C اور سیکشن 236K ٹیکس کوصر ف ایک فیصد کیا جائے ، ایک فیصد خریدار ادا کرے اور ایک فیصد فروخت کنندہ ادا کرے ۔ایک فیصد سٹمپ ڈیوٹی، ایک فیصد ٹی ایم اے چارجز ملا کر کل لاگت چار فیصد ہونی چاہیے ۔ حکومت سے درخواست ہے کہ مورگیج فنانس کی ویلیو کو 25لاکھ کی بجائے ایک کروڑ کیا جائے ۔فائلر کی مختلف کیٹیگریز کو ختم کیا جائے ۔
سیکشن 7E اور 7F ٹیکس کو فوری ختم کیا جائے ۔انہوں نے مزید کہاکہ وزیراعظم پاکستان کنسٹرکشن سیکٹر کے لئے پیکیج کا اعلان کرنے جا رہے ہیں جو خوش آئند بات ہے ۔انہوں نے حکومت سے فوری طور پر گہرے مالیاتی اصلاحات نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ تعمیرات اور ہاؤسنگ کی صنعتوں کو مکمل تباہی سے بچایا جا سکے ۔ انہوں نے تعمیرات اور ہاؤسنگ کے شعبے کو قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاری کے دروازے کھولنے اور سرمائے کے بیرونِ ملک انخلا کو روکنے کے لیے فوری مالیاتی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگلے سال کے لئے حکومت کا 5لاکھ گھر تعمیر کرنے کا ہدف ہونا چاہیے ۔ انہوں نے ایک جامع حکمت عملی پیش کی جس کے تحت سالانہ پانچ لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنایا جائے گا، جس سے 78 منسلک صنعتوں کو دوبارہ متحرک کیا جا سکے گا اور پاکستان کو دوبارہ ایشین ٹائیگر کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے ۔زیادہ ٹیکسز کے باعث سرمایہ متحدہ عرب امارات جیسے ممالک کی طرف منتقل ہو رہا ہے ۔ انہوں نے تعمیراتی سامان کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور توانائی کے بلند نرخوں کو قابو میں لانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ عام آدمی کے لیے رہائش کو قابلِ برداشت بنایا جا سکے ۔