حکومتی ارکان کی عدم شرکت ، قومی اسمبلی اجلاس کورم کی نذر
اپوزیشن کی نشاندہی پر گنتی کرائی گئی مگر ایوان میں مطلوبہ تعداد پوری نہ ہوسکی وقفہ سوالات اور گیارہ نکاتی ایجنڈا مؤخر، اجلاس پیر سہ پہر تین بجے تک ملتوی
اسلام آباد(اسلم لُڑکا، سہیل خان)قومی اسمبلی کا اجلاس حکومتی ارکان کی عدم شرکت اور غیر سنجیدہ رویے کے باعث کورم کی نذر ہو گیا، اپوزیشن کی نشاندہی پر گنتی کرائی گئی مگر ایوان میں مطلوبہ تعداد پوری نہ ہوسکی ، وقفہ سوالات اور گیارہ نکاتی ایجنڈا مؤخر کرنا پڑا ، اجلاس پیر کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ جمعہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفی شاہ کی زیر صدارت شروع ہوا ۔ ڈپٹی سپیکر نے کہاکہ رکن قومی اسمبلی سعد اللہ کے والد وفات پاگئے ہیں ان کے لئے فاتحہ خوانی کروائی جائے ۔
ان کی ہدایت پر رکن اسمبلی طاہر اقبال نے دعا کروائی ۔اس کے بعد ڈپٹی سپیکر نے وقفہ سوالات کا آغاز کیا تو پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی اقبال آفریدی نے بولنے کی اجازت چاہی جس پر ڈپٹی سپیکرنے انکارکردیا تو انہوں نے کورم کی نشاندہی کردی ، ڈپٹی سپیکر نے گنتی کروانے کی ہدایت کردی ،گنتی کروانے پر کورم پورا نہ نکلا ، ڈپٹی سپیکر نے اجلاس کی کارروائی کورم پورا ہونے تک ملتوی کردی ۔ انتظار کرنے کے باوجود بھی ارکان اسمبلی ایوان میں نہ آئے ۔ بعدازاں اجلاس کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو ڈپٹی سپیکر نے دوبارہ گنتی کروانے کی ہدایت کی پھر بھی کورم پورا نہ نکلا جس پر ڈپٹی سپیکر کو مجبوراً اجلاس پیر کی سہ تین بجے تک ملتوی کرنا پڑا ۔ کورم کی نشاندہی پر اجلاس کسی کارروائی کے بغیرملتوی ہوگیا ۔اجلاس ملتوی ہونے کی وجہ سے وقفہ سوالات اور گیارہ نکاتی ایجنڈا بھی نہ لیاجاسکا ۔ ایوان میں سابق رکن قومی اسمبلی ناصر خان بلوچ کے لئے فاتحہ خوانی کروائی گئی۔