ایرانی صدر کی معذرت، پڑوسی ممالک پر حملے نہ کرنے کا اعلان، عمل نہ ہوسکا : فیلڈ مارشل کی سعودی وزیر دفاع سے ملاقات
سعودی عرب ، دبئی ، بغداد ، قطر ، بحرین پر ایرانی حملے ،عراق سے غیرملکی تیل کمپنیوں کا عملہ کویت چلا گیا ، ایران میں پانی پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا ، 42 بحری جہازوں کو تباہ کیا :ٹرمپ آرمی چیف عاصم منیراور شہزادہ خالد کی دفاعی معاہدے کے تحت ایرانی حملے روکنے پر گفتگو، بلااشتعال جارحیت علاقائی سلامتی کیلئے نقصان دہ قرار،اسحاق ڈار کے عالمی رہنماؤں سے رابطے
تہران ،واشنگٹن (نیوز ایجنسیاں)ایرانی صدر مسعودپزشکیان نے پڑوسی ممالک پر مزید حملے نہ کرنے کا اعلان کردیا تاہم اس پر عمل نہ ہوسکا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو زیادہ شدت سے نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی ۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سرکاری ٹی وی پر اپنے ویڈیوپیغام میں کہا کہ ایران آخر تک لڑے گا۔انہوں نے حالیہ دنوں میں نشانہ بنائے گئے پڑوسی ممالک سے معذرت کی اورکہاکہ عبوری قیادت کونسل نے مسلح افواج کو حکم دیا ہے کہ وہ پڑوسی ریاستوں کو نشانہ بنانا بند کر دیں جب تک کہ ایران پر حملے ان کی سرزمین سے شروع نہ ہوں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسعود پزشکیان کی تقریر کی مختلف تشریح کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے معافی مانگ لی ہے اور اپنے ہمسایوں کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے ہیں۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے تین روز میں ایران کے 42 بحری جہازوں کو تباہ جبکہ ایرانی فضائیہ اور ٹیلی کمیونی کیشن کو بھی ناکارہ کر دیا ہے۔
دوسر ی جانب ایرانی عدلیہ کے سربراہ نے ہفتے کے روز کہا کہ اسلامی جمہوریہ اپنے دشمنوں کے خلاف استعمال ہونے والے نشانے فراہم کرنے والے ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنانا جاری رکھے گا۔غلام حسین محسنی اجئی نے کہاکہ ایران کی مسلح افواج کے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے بعض ممالک کا جغرافیہ کھلے عام اور خفیہ طور پر دشمن کے استعمال میں ہے ۔حکومت اور نظام کے دیگر ستون اس بات پر متفق ہیں کہ ان اہداف پر شدید حملے جاری رہیں گے ۔ چنانچہ ہفتے کے روز متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر اور کویت میں متعدد حملے رپورٹ ہوئے ، امارات نے کہا کہ اس پر 16 بیلسٹک میزائل اور 120 سے زائد ڈرون حملے کئے گئے۔ سعودی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ ایک بیلسٹک میزائل جو پرنس سلطان ایئر بیس کو نشانہ بنانے کیلئے داغا گیا تھا، غیر آباد علاقے میں گرا۔بحرین کی وزارت داخلہ نے بتایا کہ ایران کے ایک حملے کے نتیجے میں مناما میں آگ بھڑک اٹھی اور ایک گھر سمیت کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
دبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے قریب ایک ڈرون گرا، جس کے نتیجے میں دنیا کے سب سے مصروف بین الاقوامی ہوائی اڈے نے عارضی طور پر اپنی پروازیں معطل کر دیں۔دبئی حکام نے کہاکہ البرشا علاقے میں ڈرون کا ملبہ ایک گاڑی پر گرنے سے ایک ایشین ڈرائیور ہلاک ہوا تاہم انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں ۔ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے ابوظہبی ٹی وی پر آکر غیرمعمولی بیان میں کہا کہ متحدہ عرب امارات اس وقت جنگ کی حالت میں ہے لیکن ہم مضبوط ہو کر ابھریں گے ۔ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے الزام عائد کیا کہ امریکا نے خلیج میں واقع قشم جزیرے پر پانی صاف کرنے کے پلانٹ (فریش واٹر ڈیسالینیشن پلانٹ )پر حملہ کر کے ایک خطرناک مثال قائم کی اور ایک کھلا اور مایوس کن جرم انجام دیا،اس حملے کے نتیجے میں 30 گاؤں میں پانی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔
ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ ایک خطرناک اقدام ہے جس کے سنگین نتائج ہوں گے ۔ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا کہ اس نے بحرین کے امریکی جفیر بیس پر حملہ کیا ہے ، یہ فوجی اڈا پانی صاف کرنے والے پلانٹ پر حملے میں استعمال ہوا تھا۔ غیر ملکی تیل کمپنیوں نے عراق میں آئل فیلڈز سے اپنے عملے کو نکالنا شروع کر دیا ۔ امریکی آئل فرم ہالیبرتون کے ایک سکیورٹی گارڈ محمد طعم نے بتایا کہ عراق میں سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر غیرملکی عملہ کویت کیلئے روانہ ہو گیا ہے اور وہاں سے وہ دیکھیں گے کہ وہ کہاں جائیں گے ۔ایک اور امریکی آئل فرم ایچ کے این انرجی نے عراق میں غیر قانونی گروہوں کے حملے کی رپورٹس کے بعد جمعے کو عراقی کردستان میں ایک سائٹ پر پیداوار روک دی ہے ۔عراقی دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارتخانے کی جانب داغے گئے راکٹوں کو فضائی دفاعی نظام نے روک لیا ۔ایک سکیورٹی اہلکار نے کہاکہ سفارتخانے کی جانب چار راکٹ داغے گئے۔ فضائی دفاع نے تین کو ناکارہ بنایا، جبکہ ایک سفارتخانے کے اندر ایئر بیس پر کھلے علاقے میں گر ا۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے تہران کے مہرآباد ہوائی اڈے پر حملہ کر کے 16 ایرانی طیارے تباہ کر دئیے ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے تہران اور اصفہان میں ایرانی حکومت کے انفراسٹرکچر کے خلاف نئے حملوں کی بڑے پیمانے پر لہر شروع کر دی ہے ۔ ایران نے بھی اسرائیل پر میزائلوں سے تازہ حملے کئے ہیں، ایرانی میزائل حملوں کے بعد اسرائیل کے تجارتی مرکز تل ابیب میں بھی کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ایک علیحدہ کارروائی میں ایرانی بحریہ نے سمندر میں موجود امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابرہام لنکن کو نشانہ بنانے کیلئے ساحل سے سمندر میں مار کرنے والا میزائل فائر کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ امریکی سنٹرل کمانڈ کے مطابق اب تک 43 ایرانی جنگی جہازوں کو نقصان یا تباہ کیا جا چکا ہے ، ایران میں 3 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران مخصوص کارروائیوں کیلئے کچھ برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال شروع کر دیا ہے ۔
راولپنڈی (خصوصی نیوز رپورٹر) چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے دورہ سعودی عرب کے دوران سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات کی جس میں دفاعی معاہدے کے تحت ایرانی حملے روکنے اور خطے کی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر )کے مطابق دونوں رہنماؤں نے سعودی عرب پر ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں سے پیدا ہونے والی سکیورٹی صورتحال کی سنگینی اور سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کے فریم ورک کے اندر انہیں روکنے کیلئے مشترکہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔اس بات پر زور دیا گیا کہ بلا اشتعال جارحیت علاقائی سلامتی اور استحکام کیلئے کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور تنازعات کے پرامن حل میں رکاوٹ پیداکرتی ہے۔
دونوں فریقوں نے امید اور خواہش کا اظہار کیا کہ برادر ملک ایران کسی غلط فہمی سے بچنے کیلئے ہوشیاری اور سمجھداری کا مظاہرہ کرے گا اور بحران کے پرامن حل کے خواہاں دوست ممالک کے ہاتھ مضبوط کرے گا۔ملاقات کے بعد سعودی وزیر دفاع نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر لکھا کہ ہم نے سعودی عرب پر ایران کے حملوں اور انہیں روکنے کیلئے ضروری اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ ہم نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے اقدامات خطے کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ایرانی فریق دانشمندی سے کام لے گا اور کسی غلط فہمی سے گریز کرے گا۔انہوں نے یہ لکھا کہ اس ملاقات میں مملکت پر ایرانی حملوں اور انہیں روکنے کیلئے مشترکہ سٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تحت درکار اقدامات پر بات چیت کی گئی۔
علاوہ ازیں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے حوالے سے ایران کے وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔ دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے حالیہ علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ صورتحال کے حوالے سے مسلسل رابطے میں رہیں گے ۔ اسحاق ڈار نے متحدہ عرب امارات کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ عبداﷲ بن زاید النہیان ، ملائیشیا کے وزیرِ خارجہ حاجی حسن اور خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدیوی سے بھی ٹیلیفون پر گفتگو کی۔ جس میں خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔