حکومتی اتحادی جماعتوں کا تیل کی قیمتوں میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ
پارلیمنٹ میں آواز اٹھائیں گے :پیپلزپارٹی، قیمتوں میں اضافہ قبول نہیں :متحدہ حکومت نے شاہ خرچیوں میں کمی کے بجائے پھر عوام پر پٹرول بم گرا دیا :پی ٹی آئی
لاہور،اسلام آباد،(سپیشل رپورٹر،سٹاف رپورٹر، سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک )وفاقی حکومت کی اتحادی جماعتوں پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کر دیا۔ اس حوالے سے پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر و سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف ،جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضیٰ ، سیکرٹری اطلاعات شہزاد سعید چیمہ اور ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات احسن عباس رضوی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یکمشت 55روپے فی لٹر مہنگا پٹرول ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ ہے ، اس کیخلاف پارلیمنٹ میں آواز اٹھائیں گے ، حالیہ اضافہ کسی صورت قابل قبول نہیں ، حکومت فوری طور پر قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ واپس لے۔
پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل نیر حسین بخاری،ندیم افضل چن،ہمایوں خان ،شازیہ مری ، سید خورشید شاہ و دیگر رہنماؤں نے ردعمل میں کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف کی بجائے تکلیف میں مبتلا کرنے سے گریز کرے ،وفاقی صوبائی حکومتی ادارے پٹرول و ڈیزل کے استعمال پر 60فیصد کٹوتی کا فائدہ عوام کو پہنچایا جائے ۔ متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین قومی اسمبلی نے بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حکومت نے پٹرلیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے غریب اور متوسط طبقے کے عوام پر بالواسطہ بھاری ٹیکس عائد کردیا جو مہنگائی کی شرح میں اضافے کا سبب بنے گا، آخر کب تک حکومت عوام کے ذریعے ٹیکس وصول کریگی اور کب تک یہ بوجھ عوام پر مسلط کیا جاتا رہے گا،جو کروڑ پتی اور ارب پتی ہیں انہیں ٹیکس نیٹ میں لایا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ فوری واپس لیا جائے۔
پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے بھی اپنے ردعمل میں کہا کہ حکومت نے اپنی شاہ خرچیوں میں کمی کرنے کے بجائے ایک بار پھر عوام پر پٹرول بم گرا دیا ، اس وقت پٹرول پر تقریباً 100 روپے فی لٹر تک پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں مگر ان میں کمی کر کے ریلیف دینے کے بجائے عوام پر مزید 55 روپے کابوجھ ڈال دیا گیا، آج کی حکومت اپنی مالی بدانتظامی کا بوجھ عوام پر ڈال رہی ہے ، جس سے عام آدمی کی مشکلات مزید بڑھ رہی ہیں۔