فائیو جی سپیکٹرم نیلامی،پی ٹی اے نے 12 ارب جمع کر لیے
ہر کمپنی کیلئے سو میگا ہرٹز سپیکٹرم خریدنا لازمی قرار، عدم خریداری پر4ارب ضبط ہونگے متحدہ عرب امارات، چین اورروسی سرمایہ کاری رکھنے والی تین کمپنیوں میں مقابلہ ہوگا
اسلام آباد (ایس ایم زمان)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے )نے فائیو جی سپیکٹرم لائسنس کی نیلامی کیلئے 12 ارب روپے کی ابتدائی (بیس)رقم جمع کر لی ۔نیلامی شرائط کے مطابق نیلامی میں شریک ہونے والی ہر کمپنی کیلئے فائیو جی سپیکٹرم لائسنس کا کم از کم حصہ خریدنا لازمی ہوگا اور تمام کمپنیاں فائیو جی سروس شروع کریں گی۔پاکستان میں فائیو جی سپیکٹرم لائسنس کی نیلامی 10 مارچ کو ہوگی جس میں شرکت کیلئے تین ٹیلی کام کمپنیوں نے پی ٹی اے کے پاس چار ارب روپے فی کمپنی کے حساب سے مجموعی طور پر 12 ارب روپے بطور ابتدائی رقم جمع کرا دی ۔پی ٹی اے کی نیلامی شرائط کے مطابق نیلامی میں شامل ہر کمپنی کے لیے فائیو جی سپیکٹرم لائسنس کا کم از کم 100 میگا ہرٹز حصہ خریدنا لازمی ہوگا بصورت دیگر نیلامی میں حصہ نہ لینے یا سپیکٹرم نہ خریدنے کی صورت میں کمپنی کی چار ارب روپے کی جمع کرائی گئی ابتدائی رقم ضبط کر لی جائے گی۔
پاکستان میں فائیو جی سپیکٹرم لائسنس کی نیلامی کے لیے 10 مارچ کو ملک میں موجود تین ٹیلی کام کمپنیوں کے درمیان مقابلہ ہوگا، تاہم اس عمل میں کوئی نئی کمپنی حصہ نہیں لے رہی۔ اتھارٹی کے مطابق پری بولی مرحلے میں تین موجودہ کمپنیوں کے علاوہ کسی اور کمپنی نے دستاویزات جمع نہیں کرائیں۔فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی میں متحدہ عرب امارات، روس اور چین کی حصہ داری رکھنے والی کمپنیوں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ پاکستان میں ٹیلی نار کی فروخت کے بعد اب مقامی سطح پر یو فون کمپنی موجود ہے جس کا انتظامی کنٹرول متحدہ عرب امارات کے پاس ہے جبکہ زونگ ٹیلی کام کمپنی چین کی ملکیت ہے اور جاز ٹیلی کام کمپنی میں روسی سرمایہ کاری شامل ہے ۔حکام کے مطابق ملک میں موجودہ تینوں بڑے آپریٹرز کے پاس اس وقت اوسطاً تقریباً 18 ہزار ٹاورز پر مشتمل وسیع نیٹ ورک موجود ہے جس کا مقابلہ کرنا کسی بھی نئے آنے والے کیلئے مالی اور تکنیکی طور پر مشکل ہے ۔