قومی اسمبلی ،8 بلز منظور، شادی کیلئے تھیلیسیمیا ٹیسٹ لازمی

 قومی اسمبلی ،8 بلز منظور، شادی کیلئے تھیلیسیمیا ٹیسٹ لازمی

ٹیسٹ کے بغیر نکاح پڑھانے والے کا لائسنس منسوخ،1لاکھ جرمانہ ہوگا:متن پاکستان کے نام و نشانات کا غیر مجاز استعمال روکنے ، نصاب تعلیم نگرانی بل منظور دانش یونیورسٹی ،رفاہی اداروں کی رجسٹریشن بلز شامل، حکومتی اتحادی آمنے سامنے

 اسلام آباد (نامہ نگار، سٹاف رپورٹر،دنیا نیوز) قومی اسمبلی نے اہم قانون سازی کرتے ہوئے شادی سے قبل تھیلیسیمیا ٹیسٹ لازمی قرار دینے سمیت آٹھ مختلف بل منظور کر لیے جبکہ ایک بل مزید غور کے لیے قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔قانون سازی معاملے پر حکومتی اتحادی جماعتیں آمنے سامنے بھی آئیں، اجلاس ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفی شاہ کی صدارت میں ہوا جس میں قانون سازی کے دوران حکومتی اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات بھی سامنے آئے ۔ایوان نے لازمی تھیلیسیمیا سکریننگ بل 2025 منظور کر لیا جس کے تحت شادی سے قبل دلہا اور دلہن کے لیے تھیلیسیمیا ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ بل کے مطابق اگر نکاح خواں تھیلیسیمیا ٹیسٹ کے بغیر نکاح رجسٹر کرے گا تو اس کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا اور اس پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد ہوگا۔

یہ بل پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شرمیلا فاروقی نے پیش کیا جبکہ جے یو آئی کی رکن نعیمہ کشور کی ترمیم مسترد کر دی گئی۔قومی اسمبلی نے مجموعہ ضابطہ فوجداری ترمیمی بل 2025، پاکستان کے نام و نشانات کے غیر مجاز استعمال کی روک تھام سے متعلق ترمیمی بل 2025، سول ملازمین ترمیمی بل 2024 اور نصاب تعلیم، درسی کتب اور تعلیمی معیارات کی وفاقی نگرانی سے متعلق ترمیمی بل 2026 بھی منظور کر لیے ۔اجلاس کے دوران دانش یونیورسٹی اسلام آباد بل 2026، علاقہ دارالحکومت اسلام آباد میں رفاہی اداروں کی رجسٹریشن، انضباط و سہولت کاری ترمیمی بل 2025 اور صوبائی موٹر گاڑیاں (ترمیمی) بل 2025 بھی ایوان سے منظور کر لیے گئے ۔ تاہم اعلیٰ تعلیمی کمیشن ترمیمی بل 2025 مزید غور کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔

قانون سازی کے دوران حکومتی اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات بھی سامنے آئے ۔ پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے جے یو آئی پر حکومتی بلوں پر خاموشی اختیار کرنے کا الزام عائد کیا جس پر جے یو آئی کی رکن عالیہ کامران نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی بھی اپنے بلوں پر حکومت سے مفاہمت کرتی رہی ہے ۔ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی خواجہ اظہار الحسن نے سول ملازمین ترمیمی بل کو آئین کی روح کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوٹہ سسٹم پہلے ہی ملک کے لیے مسائل پیدا کر چکا ہے اور اس میں مزید کوٹے شامل کیے جا رہے ہیں۔ بعد ازاں ایک بل پر پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان اختلاف کے بعد ڈپٹی سپیکر نے بل کی منظوری مؤخر کر دی جس پر ایم کیو ایم کے ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔اجلاس کے دوران اپوزیشن رکن جنید اکبر خان نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ حکومت نے اہم خارجہ و دفاعی معاملات پر پارلیمان کو اعتماد میں نہیں لیا۔ پیپلز پارٹی کے رکن فتح اللہ خان نے کہا کہ اگر ڈی آئی خان کے مسائل کو مدنظر رکھ کر بجٹ نہ بنایا گیا تو وہ پارلیمنٹ کے باہر بھوک ہڑتال کریں گے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں