سکروٹنی کے بعدوزیراعلیٰ خودصحافیوں کوپلاٹ دینگی :عظمیٰ

سکروٹنی کے بعدوزیراعلیٰ خودصحافیوں کوپلاٹ دینگی :عظمیٰ

ایک خاندان کو ایک پلاٹ الاٹ کرنے کی تجویز، ادائیگی 7 سال میں،15ہزار قسط میاں بیوی دونوں صحافی ہوں تو پلاٹ بیوی کے نام الاٹ کیا جا سکتا :وزیر اطلاعات

لاہور(سٹاف رپورٹر،نیوزایجنسیاں )وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری کی زیر صدارت پنجاب جرنلسٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں جرنلسٹ ہاؤسنگ سوسائٹی فیز ٹو کے لیے موصول ہونے والی درخواستوں کی سکروٹنی کے طریقہ کار پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری اطلاعات طاہر رضا ہمدانی، ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز فرید احمد، صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری، سینئر صحافی مجیب الرحمٰن شامی، سینئر صحافی سلمان غنی اور روڈا سے عابد لطیف سمیت دیگر متعلقہ افسروں نے شرکت کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ درخواستوں کی جانچ پڑتال کے لیے ایک سکروٹنی کمیٹی قائم کی جائے گی جو موصولہ درخواستوں کا جائزہ لے کر 15 روز کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ کمیٹی میں ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز فرید احمد، صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری، سینئر صحافی مجیب الرحمٰن شامی اور سینئر صحافی سلمان غنی شامل ہوں گے ۔

یہ کمیٹی لاہور پریس کلب کے ممبران کے ساتھ ساتھ نان ممبر صحافیوں کی درخواستوں کی بھی سکروٹنی کرے گی۔اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ پلاٹ کی قیمت کی ادائیگی سات سال تک ماہانہ 15 ہزار روپے کی اقساط میں کی جائے گی جبکہ باقی ماندہ رقم آخری قسط کے ساتھ یکمشت ادا کرنا ہوگی۔اس موقع پر عظمیٰ بخاری نے تجویز دی کہ ایک خاندان کو صرف ایک پلاٹ الاٹ کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق صحافی اس سکیم سے فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر میاں بیوی دونوں صحافی ہوں اور الگ الگ درخواستیں جمع کرائیں تو خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے پلاٹ بیوی کے نام الاٹ کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا جا سکتا ہے ۔ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ میاں بیوی کے مشترکہ کیسز کو حقائق اور میرٹ کی بنیاد پر الگ الگ جانچا جائے گا۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب حکومت 3200 صحافیوں کو پلاٹ دینے جا رہی ہے اور صحافیوں کی اپنی چھت کا خواب اب آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے ۔ سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کی جائے گی، جس کے بعد وزیراعلیٰ خود صحافیوں کو پلاٹ اپنے ہاتھوں سے الاٹ کریں گی۔ حکومت پنجاب صحافیوں کی فلاح و بہبود اور ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں