ہائیکورٹ: چیئرمین نیپرا وسیم مختار کی تعیناتی پر وفاق سے جواب طلب
لاہور (عدالتی رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ میں چیئرمین نیپرا وسیم مختار کی تعیناتی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ جسٹس خالد اسحاق نے چیئرمین نیپرا، سیکرٹری نیپرا اور وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ وسیم مختار کی بطور چیئرمین تعیناتی نیپرا رولز ترمیمی ایکٹ 2021 کی خلاف ورزی ہے ۔ قوانین کے مطابق نئے چیئرمین کی تعیناتی سابقہ چیئرمین کے کنٹریکٹ کے خاتمے سے 90 دن قبل ضروری ہوتی ہے ، تاہم سابق چیئرمین توفیق احمد فاروقی کی مدت ختم ہونے کے چھ روز بعد نئے چیئرمین کی تعیناتی عمل میں لائی گئی۔ سابق چیئرمین کی ریٹائرمنٹ سے 90 روز قبل نئی تعیناتی لازمی تھی جو نہیں کی گئی۔ موجودہ چیئرمین نیپرا وسیم مختار کی تعیناتی کو کالعدم قرار دیا جائے اور کیس کے حتمی فیصلے تک انہیں اپنے عہدے پر کام کرنے سے روکا جائے ۔