قانون شفعہ اسلامی تعلیمات کے مطابق:شریعت اپیلٹ بینچ

قانون شفعہ اسلامی تعلیمات کے مطابق:شریعت اپیلٹ بینچ

فقہ میں شفعہ کا تصور تسلیم شدہ، قرآن یا حدیث کی بنیاد پر غیر اسلامی نہیں:عدالت مقتول کا وارث ملزم ہو تو قصاص کا نفاذ نہیں:سپریم کورٹ، سزائے موت کالعدم

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر) سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بینچ نے قرار دیا کہ شفعہ کا قانون اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے ، قرآن و حدیث کی روشنی میں اسے غیر اسلامی  قرار نہیں دیا جا سکتا۔ شفعہ کا تصور اسلامی فقہ میں تسلیم شدہ ہے ۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے قانونِ شفعہ سے متعلق اپیل پر سماعت کی۔ پنجاب حکومت کی جانب سے ثناء اللہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ شفعہ کا قانون اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ ہے اور قرآن یا حدیث کی بنیاد پر اسے غیر اسلامی قرار دینے کی گنجائش نہیں۔ ادھر سپریم کورٹ نے بیوی اور بیٹی کے قتل کے مجرم امین کی سزائے موت کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر عمر قید میں تبدیل کر دیا۔ جسٹس اشتیاق ابراہیم کے تحریر کردہ فیصلہ میں کہا گیا مجرم کو پھانسی کی سزا برقرار رکھنا اس کی کمسن بیٹی کو یتیم کرنے کے مترادف ہو گا۔ جب مقتول کا وارث براہ راست ملزم ہو تو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 306 کے تحت قصاص نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ مجرم اپنی پندرہ سالہ بیٹی انسا امین کا واحد سہارا ہے اس لیے عدالت نے سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں