پنجاب تاشقند برادر صوبہ قرار دینے پر اتفاق ،مل کر دنیا کو حیران کرسکتے:مریم نواز
نواز شریف اور وزیراعلیٰ سے گورنر تاشقند کی وفد کے ہمراہ ملاقات، پرتپاک استقبال، سرمایہ کاری بڑھانے کا عزم لاہور میں بابر پارک کے قیام پر غور، ناجائز اسلحہ کے خاتمے کی ذمہ داری سی سی ڈی کو تفویض ،عیدکے بعد مہم کا آغاز
لاہور(سٹاف رپورٹر)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف اوروزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازسے ازبکستان کے صوبے تاشقند کے گورنر زوئیر مرزا ایوف نے 7 رکنی وفد کے ہمراہ ملاقات کی، اس موقع پر پنجاب اور تاشقند کو برادر صوبہ قرار دینے پر اتفاق کرتے ہوئے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔ازبکستان نے پنجاب میں سرمایہ کاری بڑھانے ،ٹورازم، زراعت، لائیو سٹاک،میٹ پراسیسنگ،بیوریجز،سٹرس فروٹ اور دیگر سیکٹرز میں بھی معاشی تعاون پر اتفاق کیا۔ازبکستان کی طرف سے لاہور میں بابر پارک کے قیام کی تجویز پر غور کیاگیا۔گورنر تاشقند نے لاہور میں مغل دور کی تاریخی عمارتوں کی بحالی پر وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو خراج تحسین پیش کیا۔ مریم نواز نے دورہ ازبکستان کی دعوت شکریہ کے ساتھ قبول کرلی۔ازبک پلاؤ کی تعریف پر گورنر تاشقند نے اظہار مسرت کیا اور پاکستانی باورچیو ں کی ٹریننگ کیلئے ازبک شیف بھیجنے کی پیشکش کی۔نواز شریف اورمریم نواز نے تاشقند کے گورنر زویئر مرزاایوف کا پرتپاک استقبال کیا۔
نواز شریف نے کہا کہ پاکستانی ازبکستان کے علمی و ثقافتی ورثے پر فخر کرتے ہیں۔ثمرقند ماضی کی طرح آج بھی علم و ہنر کا مرکز و محور ہے ۔ ازبکستان کے کھانے بالخصوص پلاؤ پاکستانیوں کے مرغوب کھانوں میں شامل ہے ۔ متحدہ ہندوستان کے پہلے مغل بادشاہ فرغانہ سے ہندوستان آئے ، آج بھی ان کی متاثر کن حکمرانی کی داستان پڑھی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لاہور کی ہزاروں سال پرانی تاریخ ہے ، لاہور سے محبت ہے ، جب وزیر اعظم تھا تو ہر ویک اینڈ پر لاہور آجاتا تھا۔ نواز شریف نے ازبکستان کے لوگوں بالخصوص اہل ثمر قند کو سلام محبت پیش کیا۔گورنر تاشقند نے کہاکہ پنجاب میں ٹورازم،آرکیالوجی، میوزیم اور سیاحت کے فروغ کیلئے وزیراعلیٰ مریم نواز کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔ نواز شریف سے ملاقات کو اپنا اعزاز سمجھتا ہوں۔پاکستان کے ساتھ سماجی اور معاشی تعاون کو مزید فروغ دینے کے منتظر ہیں۔پاکستان اور ازبکستان کے درمیان سیاحت، فارماسیوٹیکل، زراعت اور دیگر سیکٹرز میں معاشی تعلقات کے فروغ کے بیشمار مواقع موجود ہیں۔
ازبکستان میں ڈھائی ہزار کمپنیاں 74 ممالک کے اشتراک کار سے کام کررہی ہیں۔ازبکستان میں پاکستانی سرمایہ کاروں کے اشتراک سے 22کمپنیاں، ٹیکسٹائل، زراعت اور میٹ پراسیسنگ دیگر سیکٹرزکام کررہی ہیں۔دورہ پاکستان کے مثبت اور حوصلہ افزاء معاشی نتائج کے لئے پر امید ہیں۔ مریم نوازنے کہا کہ ازبکستان برادر ملک ہے ، سماجی اور معاشی تعلقات مزید مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ازبکستان سے محبت مجھے والد نواز شریف اور والدہ مرحومہ کی طرف سے ورثے میں ملی ہے ۔ لاہور میں ازبک کوزین ریسٹورنٹ پاکستانیوں کی ازبکستان سے محبت کا ثبوت ہے ۔ پنجاب میں بہت سے تاریخی مقامات سیاحتی توجہ کا مرکز ہیں۔ لاہور میں مغل دور کے بیشمار آثار قدیمہ موجود ہیں۔ پنجاب میں زراعت، صنعت، سوشل سیکٹر اور انفراسٹرکچر میں بہتری کیلئے اربوں روپے لگائے گئے ہیں۔ پنجاب میں عالمی معیار کے مطابق تین لاکھ مویشی میٹ ایکسپورٹ کیلئے موزوں اور تیار ہیں۔پنجاب میں میٹ کی کوالٹی بہتر بنانے کیلئے بھاری بھرکم سرمایہ کاری کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ازبکستان اور پاکستان اشتراک کار سے دنیا کو حیران کر سکتے ہیں۔ پاکستان ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل میں لیڈ لے رہا ہے ۔
پاکستان کی بیڈ شیٹ، ٹاول اور دیگر ٹیکسٹائل مصنوعات دنیا بھر میں پسند کی جاتی ہیں۔قبل ازیں گورنر تاشقندکی قیادت میں 18 رکنی وفد کے لاہور پہنچنے پر سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے استقبال کیا۔ وفد نے پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ (پی بی آئی ٹی) کا دورہ بھی کیا۔ دریں اثنا وزیراعلیٰ مریم نواز نے ناجائز اسلحہ کے خاتمے کی ذمہ داری سی سی ڈی کو سونپ دی اور عید الفطر کے بعد اسلحہ کلچر کی خاتمے کے لئے بھرپور مہم کا حکم دیا۔ پنجاب میں پہلی مرتبہ اسلحہ نمائش اور ناجائز استعمال کے سدباب کے جامع ایکٹ تیار کر لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے The Punjab Surrender Illicit Arms Act 2026کی منظوری دیدی۔ انٹیک اسلحہ گھر میں آویزاں کرنے کے لئے بھی خصوصی اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا۔ نئے ایکٹ کے نفاذ کے بعد ناجائز اسلحہ مقرر مدت کے اندر اندر سی سی ڈی کو جمع کرانا ہو گا۔ لائسنس یافتہ اسلحہ بردار شہری کو بھی اسلحہ رکھنے کی معقول وجہ بیان کرنی ہوگی۔ مقررہ مدت میں ناجائز اسلحہ جمع نہ کرانے پر سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔علاوہ ازیں مریم نواز نے یوم علی ؓکے جلوسوں اور مساجد میں معتکفین کی سکیورٹی کیلئے بھی خصوصی اقدامات کی ہدایت کی ۔