ایران میں نشانہ بنانے کیلئے کچھ نہیں بچا:ٹرمپ،3بحری جہازوں پر میزائل حملے
آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائیں تو مزیدکارروائی کرینگے :امریکی صدر ،ترسیل بند،تیل کی فی بیرل قیمت 200 ڈالر تک پہنچنے کیلئے تیار ہو جائیں:ایرانی فوجی ترجمان ایرانی بچیوں کے سکول پرحملے کا ذمہ دار امریکا :نیویارک ٹائمز،مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہوئے تاہم محفوظ ہیں :ایران ،قطر،سعودی عرب،دبئی اوربحرین کی بندرگاہ پر میزائل،ڈرونز حملے
واشنگٹن ،تہران (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناہے کہ ایران میں نشانہ بنانے کیلئے کچھ بھی نہیں بچا ،وہ جب بھی چاہیں ،ایران جنگ ختم کرسکتے ہیں ،دوسری طرف 3بحری جہازوں پر میزائل حملے کئے گئے ہیں جبکہ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے سربراہ علی رضا تنگسری نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے امریکا یا اس کے اتحادیوں کے کسی بھی فوجی بحری جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔امریکی صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہاکہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ہی ختم ہو جائے گی کیونکہ اب عملی طور نشانہ بنانے کیلئے ایران میں کچھ نہیں بچا ،میں جب اسے ختم کرنا چاہوں، ختم ہو جائے گی۔انہوں نے اپنے ایک سوشل میڈیا پیغام میں کہاکہ ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کی تو مزید کارروائیاں کریں گے ،اگربارودی سرنگیں بچھائی جارہی ہیں تو وہ ہٹادیں ۔امریکا کی ایران کے ساتھ جاری جنگ بہت اچھے انداز میں جاری ہے اور اس کے نتائج توقع سے بہتر ہیں۔ سینٹ کام نے دعوی ٰکیا ہے کہ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب بارودی سرنگیں بچھانے والی 16 ایرانی کشتیاں تباہ کر دیں۔
ٹرمپ کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ سے صحافیوں نے پوچھا کہ ایران میں جاری جنگ کب تک چلے گی تو انہوں نے جواب دیا کہ ابتدائی منصوبہ چار سے چھ ہفتوں کا تھا، جس میں ایران کے میزائل اور بحریہ کو تباہ کرنا، اس کی جوہری صلاحیت ختم کرنا اور اس کے اتحادی گروہوں کو مٹانا شامل تھا،آپریشن مقررہ وقت سے آگے بڑھ رہا ہے ۔کیرولین لیوٹ کا کہناتھاکہ ایپک فیوری آپریشن کامیابی سے جاری ہے ، ایران کے 50 بحری جہازوں کو تباہ کر دیا گیا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ کے اہداف تیزی سے حاصل کرنے کے لئے پراعتماد ہیں، اہداف حاصل ہوجانے کے بعد تیل اور گیس کی قیمتیں کم ہو جائیں گی۔انہوں نے بتایا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز میں کسی جہاز کو تحفظ نہیں دیا۔ میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے مطابق آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں میزائل یا پروجیکٹائل حملوں کا نشانہ بننے والوں میں تھائی لینڈ، جاپان اور مارشل آئی لینڈ کے پرچم بردار جہاز شامل ہیں۔ آبنائے ہرمز میں دبئی کے قریب اورعمان کے ساحل سے تقریباً 11 ناٹیکل میل دوری پر جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے نتیجے میں جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی، جس پر قابو پا لیا گیا، حملے میں عملہ محفوظ رہا۔رائل تھائی نیوی کے مطابق جہاز پر عملے کے 23 ارکان سوار تھے ، عمان کی بحریہ نے عملے کے 20 ارکان کو بچا لیا جبکہ باقی افراد کو نکالنے کا عمل جاری ہے ۔ جہاز پر حملہ متحدہ عرب امارات کی خلیفہ بندرگاہ سے روانہ ہونے کے کئی گھنٹے بعد ہوا،حملے کی وجوہات کے متعلق ابھی تفتیش جاری ہے ۔
پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے سربراہ علی رضا تنگسری کاکہناہے کہ آبنائے ہرمز سے کسی تیل بردار جہاز کے امریکی فوجی حفاظت میں گزرنے کا دعویٰ مکمل طور پر بے بنیاد ہے ،اگر امریکا یا اس کے اتحادیوں کا کوئی بحری بیڑا اس راستے سے گزرنے کی کوشش کرے گا تو اسے ایرانی میزائلوں اور خودکش ڈرونز کے ذریعے روک دیا جائے گا۔ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں کہاکہ ایران میں نظام کی تبدیلی کیلئے امریکا اور اسرائیل کے منصوبے ناکام ہو چکے ،جب تک ضروری ہوا میزائل حملے جاری رکھیں گے ۔انہوں نے امریکی صدر کے اس بیان کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہونے والی ہے کے جواب میں کہاکہ امریکا کے ساتھ مذاکرات اب ہمارے ایجنڈے میں شامل نہیں ، امریکا کے ساتھ معاملات میں ایران کا تجربہ انتہائی تلخ رہا ہے ۔ایران نے آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل روکنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ تیل کی فی بیرل قیمت 200 ڈالر تک پہنچنے کیلئے تیار ہو جائیں کیونکہ تیل کی قیمت کا انحصار علاقائی سلامتی پر منحصر ہے جسے آپ نے غیر مستحکم کیا ہے ۔
ایران کی مشترکہ فوجی کمان خاتم الانبیا ؐسنٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے جنگ کی نئی حکمت عملی بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کی پالیسی اب دشمنوں پر صرف جوابی حملے تک برقرار نہیں رہے گی بلکہ اب دشمنوں پر بڑھ بڑھ کر اور پے در پے حملے کریں گے ۔ابراہیم ذوالفقاری نے امریکا کو خبردار کیا کہ ایران آبنائے ہرمز سے ایک قطرہ تیل بھی امریکا، اسرائیل یا ان کے اتحادیوں تک جانے نہیں دے گا جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک جاسکتی ہیں۔خاتم الانبیا ؐکے ترجمان نے دھمکی دی کہ ایران خطے میں اسرائیلی اور امریکی بینکوں اورکمپنیوں کو نشانہ بنائے گا،یہ اقدام ایران میں ایک بینک کو نشانہ بنائے جانے کے جواب میں کیا جا رہا ہے ،انہوں نے مشہور کمپنیوں گوگل، مائیکروسافٹ اور دیگر کوبھی اپنا ہدف قرار دیا۔ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے کی رپورٹس کے بعد حکومت نے تصدیق کی ہے کہ وہ بالکل محفوظ ہیں۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے صاحبزادے اور حکومتی مشیر یوسف پزشکیان نے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای بالکل محفوظ اور خیریت سے ہیں۔
قبرص میں ایرانی سفیرعلی رضا سلاریان نے دی گارڈین اخبار کو بتایا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای فضائی حملے میں زخمی ہوئے تھے جس میں ان کے والداوروالدہ کی شہادت ہوئی تھی،حملے کے وقت مجتبیٰ خامنہ ای بھی وہاں موجود تھے ، سنا ہے کہ ان کی ٹانگوں ، ہاتھ اور بازو میں چوٹ لگی ہے ۔دوسری طرف ایران نے اسرائیل کے بن گوریان ایئرپورٹ پر میزائلوں کی بارش کردی ،جاری ویڈیو میں دیکھاجاسکتاہے کہ یکے بعد دیگرے میزائل ایئرپورٹ پر گر رہے ہیں جن سے دھماکوں کی آوازیں بلند ہورہی ہیں اور آگ کے شعلے پھیل رہے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق سوائے چند میزائل روکنے کے اسرائیل کا دفاعی نظام ناکام رہا اور پھر سائرن کی آوازیں گونجتی رہیں۔قطر کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے میزائل حملہ ناکام بنا دیا ہے ۔سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے مشرقی علاقے میں واقع پرنس سلطان ایئر بیس کی جانب جانے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو روک کر تباہ کر دیا ۔دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب دو ڈرون گرنے سے چار افراد زخمی ہو گئے جن میں گھاناکے دو اور بنگلہ دیش اور انڈیا کاایک ایک شہری شامل ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کئے ہیں۔پاسداران انقلاب کے ایک بیان میں کہا گیا کہ قطر میں العدید ایئر بیس،بحرین میں بندرگاہ، کویت میں کیمپ عریفجان اور عراق میں حریر بیس کو نشانہ بنایا گیا ۔ بڑے پیمانے پر داغے گئے میزائلوں نے خطے میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کو بھی نشانہ بنایا اور امریکی فوجی ڈھانچے کو تباہ کر دیا،امریکی حکام نے ان حملوں پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔پاسدارانِ انقلاب فورس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خلیج میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا، حملے میں 100 امریکی فوجی زخمی ہوگئے ۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران کے علاقے مناب میں بچیوں کے شجرہ طیبہ ایلیمینٹری سکول پر حملے کا ذمہ دار امریکا نکلا ہے ۔
فوجی تحقیقات میں پتا چلا ہے کہ مناب سکول پر حملہ امریکی فوج کی جانب سے ہدف کے تعین کی غلطی تھی۔اس امریکی حملے میں 150 سے زائد بچوں اور بچیوں سمیت 175 افراد شہید ہوئے تھے ۔اخبار کے مطابق امریکی فوجی تحقیقات کے مطابق ابتدائی طور پر پتا چلا ہے کہ میزائل کے حملے کیلئے پرانے ڈیٹا کا استعمال اس غلطی کا باعث بنا۔صدر ٹرمپ اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ سکول پر حملے کی ذمہ داری خود ایران پر عائد ہوتی ہے ۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات ابتدائی مراحل میں ہیں اور کئی سوالوں کے جواب ابھی سامنے نہیں آئے ۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے وزارت صحت کے حوالے سے بتایا ہے کہ مشرقی لبنان کی وادی بیکا میں تازہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں سات افراد ہلاک اور 23 زخمی ہو گئے جبکہ 2 مارچ سے اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 570 افرادشہید ہو چکے ہیں،جن میں 439 مرد، 45 خواتین اور 86 بچے شامل ہیں۔
نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک)اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کی جانب سے پڑوسی ممالک پر حملوں کے خلاف قرارداد منظور کرلی گئی،پاکستان نے قراردادکے حق میں ووٹ دیا جبکہ روس کی جنگ بندی کیلئے پیش کردہ قرارداد امریکا نے ویٹو کردی ۔ تفصیلات کے مطابق سلامتی کونسل اجلاس میں پڑوسی ممالک پر ایران کے حملوں کی مذمت کی گئی، خلیجی ممالک کی جانب سے تیار مسودہ و الی قراردادکے حق میں 13ووٹ آئے ، چین اور روس غیرحاضر رہے ،کسی ملک نے خلاف ووٹ نہیں دیا جبکہ پاکستان نے خلیجی ممالک کی جانب سے ایران کے خلاف پیش قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ ایران کے حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور عالمی امن اور سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہیں،ایران سے مطالبہ کیاگیاکہ وہ خلیجی ریاستوں کے خلاف اپنے حملے فوری بند کرے اورخطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے اقدامات کرے ۔بحرین کے مندوب کا کہنا تھا کہ ایرانی حملوں کی مذمت کیلئے قرارداد 135ممالک نے کوسپانسر کی، پاکستان بھی خلیجی ممالک کی جانب سے ایران کے خلاف پیش قرارداد کا کو سپانسر تھا،یہ اقوام متحدہ کی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ کوئی قرارداد 135 کوسپانسرزنے پیش کی، اس سے پہلے اقوام متحدہ میں ایبولا پر قرارداد 134 ممالک نے پیش کی تھی جبکہ صرف روس نے قراردادکی حمایت نہیں کی تھی ۔
دوسری طرف امریکا نے سلامتی کونسل میں روس کی جنگ بندی کی قرارداد ویٹو کردی،قرارداد کے حق میں 4 اور مخالفت میں 2 ووٹ ڈالے گئے جبکہ9 ارکان غیرحاضر رہے ،پاکستان نے اس قراردادکے بھی حق میں ووٹ دیا۔روسی مندوب کاکہناتھاکہ ایران پر حملے بند کئے جائیں ،منظور کی گئی قراردادجانبدارہے ،شہری آبادی پرحملے قابل قبول نہیں ۔اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی بھی مذمت کی،پاکستان ایران کی خودمختاری کی حمایت کرتا ہے ۔عاصم افتخار نے کہاکہ متحدہ عرب امارات پر ایرانی حملوں سے 2 پاکستانی جاں بحق ہوئے جبکہ ایران پرامریکی اوراسرائیلی حملوں نے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا ۔ لاکھوں پاکستانی خلیجی ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں، مذاکرات اور سفارتکاری سے تنازعات حل کئے جائیں۔پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ ایک ملک کو خطے کے ہمسایہ ملکوں کو ڈکٹیٹ کرنے کاحق نہیں۔ اماراتی مندوب ابوشہاب نے کہاکہ سلامتی کونسل ایران کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی کرے ، بین الاقوامی امن اور سلامتی کیلئے ایرانی حملے سنگین خطرہ ہیں، ایران کے حملے دہشت پھیلانے کی کوشش ہے ۔اماراتی مندوب نے کہا کہ ایرانی حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جا رہا ہے ، خلیجی ممالک نے صبر اور باہمی اتحاد کا ثبوت دیا ہے ۔