ننکانہ :سکھ برادری کا گرینڈ افطار،مذہبی ہم آہنگی کی مثال

 ننکانہ :سکھ برادری کا گرینڈ افطار،مذہبی ہم آہنگی کی مثال

گور و دوارہ جنم استھان میں مسلم ،سکھ، ہندو اور مسیحی رہنماؤں کی بھرپورشرکت خطے میں امن کو فروغ دیا جائے ،بھارت کرتارپور کوریڈورکھولے :رمیش سنگھ

ننکانہ صاحب(ڈسٹرکٹ رپورٹر )ننکانہ صاحب میں بین المذاہب ہم آہنگی کی بڑی مثال، سکھ برادری کی طرف سے مسلمان روزہ داروں کیلئے گورو دوارہ جنم استھان میں گرینڈ افطار کا اہتمام کیا گیا۔صوبائی وزیر اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ، سابق صوبائی وزیر اقلیتی امور اعجاز عالم، ڈپٹی کمشنر تسلیم اختر راؤ ، ڈی پی او ارسلان زاہد، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، سکھ ضلعی افسروں، ہندو اور مسیحی رہنماؤں سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکانے ملکی ترقی و سلامتی کیلئے خصوصی دعائیں کیں۔ اس موقع پرصوبائی وزیر رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا آج کے پروگرام کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا تھا کہ پاکستان میں بسنے والے تمام شہری برابر ہیں۔ سب کو برابر کے حقوق اور مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے ۔ بابا گرو نانک نے ہمیشہ محبت، اخوت اور انسانیت کی خدمت کا درس دیا۔

آج گورو دوارہ میں بیٹھ کر مسلمان، سکھ، مسیحی اور ہندو بھائیوں نے ملکر روزہ افطار کیا یہ منظر بین المذاہب ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے ۔ پاکستان محبت، رواداری اور بھائی چارے کا پیغام دینے والا ملک ہے ۔ انہوں نے کہا پنجاب میں مذہبی سیاحت کو فروغ دیا جا رہا ہے حکومت تمام مذاہب کے مقدس مقامات کی حفاظت اور ترقی کیلئے عملی اقدامات کر رہی ہے ۔ہم دنیا بھر کے سکھوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ پاکستان آئیں اور اپنے مقدس مقامات کے درشن کریں۔ چند ماہ میں وہ 20 گورو دوارے کھولے جائینگے جو80 برس سے بند پڑے ہیں۔وزیراعلیٰ کے خصوصی پروگرام کے تحت ان کی بحالی ومرمت کا کام جاری ہے ،ہمارا منصوبہ ہے کہ آئندہ 3 سال میں 50 تاریخی گورو دوارے دوبارہ کھولے جائیں۔ صوبائی وزیر نے کہا ہمسایہ ملک بھارت کو بھی پیغام دیتے ہیں کہ خطے میں امن کو فروغ دیا جائے ہم چاہتے ہیں کہ کرتارپور کوریڈور کو دوبارہ کھولا جائے تاکہ سکھ یاتری آسانی سے درشن کر سکیں۔بھارتی حکومت نے کئی ماہ سے کرتارپور کوریڈور بند کر رکھا ہے جو افسوسناک ہے ہم اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ اس معاملے کا نوٹس لیا جائے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں