تیل کی عالمی قیمت دیکھ کر آج فیصلہ کرینگے، اضافہ نہ کرتے تو ڈپو پر حملے ہوجاتے : وزیر پٹرولیم
قیمت نہ بڑھا تے تو سپلائی معطل، راشننگ سے نقصان کاخدشہ ، 25ملین کا ایل این جی کارگو 100 ملین ڈالر میں دستیاب پٹرولیم ذخائراب 120ڈالر پر لئے جائینگے :بریفنگ، اسرائیل نے میزائل اور آپ نے پٹرول میزائل مار ا:نائیک
اسلام آباد (مدثر علی رانا) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ اگر حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھاتی تو سپلائی معطل ہو جاتی، قلت پیدا ہوتی ، بڑا گردشی قرض بنتا اورآئل ڈپو پر حملے شروع ہو جاتے، پٹرول کی راشننگ کرنے سے بہت نقصان کا خدشہ ہے ، اس وقت عالمی مارکیٹ میں پریمیئم اور انشورنس دستیاب نہیں، سعودی عرب سے بڑا جہاز پہلے عمان اور پھر چھوٹے جہازوں سے تیل پاکستان آئے گا،آج جمعہ کو تیل کی عالمی نئی قیمت دیکھ کر کوئی فیصلہ کریں گے ۔ ملک میں ایل این جی گیس کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز نہیں، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان جنگ جیسی صورتحال سے دوچار ہے اور خطے میں کشیدگی کے اثرات معیشت پر پڑ سکتے ہیں ،عالمی مالیاتی اداروں کی ہدایات پر عمل نہ کیا گیا تو پاکستان دوبارہ گرے لسٹ میں جا سکتا ہے۔
وزیر مملکت خزانہ بلال کیانی نے بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ آج لیا جائے گا، حکومت کی کوشش ہوگی عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے ۔خزانہ کمیٹی کا اجلاس سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا جس میں وزیر خزانہ اور وزیر پٹرولیم نے خطے میں کشیدگی سے پیدا ہونے والی صورتحال پر بریفنگ دی۔ وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ ہے ۔ قطر نے جنگ کے باعث پاکستان کو ایل این جی کی فراہمی روک دی ہے اور 25 ملین ڈالر کا کارگو 100 ملین ڈالر میں دستیاب ہے ۔ سعودی عرب تیل کی فراہمی میں تعاون کر رہا ہے تاہم وہاں سے تیل کی ترسیل میں 15 سے 20 دن لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں کھاد کی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہے اور چھ پلانٹس بند کرنے پر غور کیا جا رہا ہے ۔
وزیر پٹرولیم نے کہا کہ اگر حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھاتی تو سپلائی معطل ہو جاتی اور فیول کی قلت پیدا ہو جاتی۔ قیمتیں نہ بڑھانے کی صورت میں کمپنیاں بڑھتی لاگت کے باعث درآمد روک دیتیں اور ملک میں فیول ڈرائی آؤٹ کی صورتحال پیدا ہو سکتی تھی۔کمیٹی رکن فاروق نائیک نے کہا کہ حکومت نے پرانے سٹاک کی بنیاد پر پٹرولیم کی قیمت 55 روپے لٹر بڑھا دی۔ غریب سے پیسہ لے کر امیر کو دے دیا گیا، اسرائیل نے میزائل مارے اور آپ نے پاکستان میں پٹرول میزائل مار دیا ۔ انہوں نے سوال کیا کہ عالمی قیمتیں کم ہونے پر کیا حکومت عوام کو ریلیف دے گی۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان جنگ جیسی صورتحال سے دوچار ہے اور خطے میں کشیدگی کے اثرات معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔
وزیر پٹرولیم نے کہا کہ قیمتیں نہ بڑھانے سے فیول درآمد رک جاتی اور نقصان کا خطرہ ہوتا۔ پٹرول کی راشننگ کرنے سے بہت نقصان کا خدشہ ہے، پٹرولیم ذخائر جو 70 ڈالرفی بیرل میں خریدے گئے وہ اب 120 ڈالر فی بیرل پر حاصل کیے جائیں گے ، اگر قیمت نہ بڑھاتے تو فرق ایک بڑا گردشی قرض بن جاتا، اگر سبسڈی دی جاتی تو پٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا ہو جاتی، اس صورتحال میں آئل ڈپو پر حملے شروع ہو جاتے ، بھارت ابھی تک فیول پر سبسڈی دے رہا ہے ، تاہم وہاں ایل این جی کی قیمت میں اضافہ کیا جا رہا ہے ، وزیر پٹرولیم نے بتایا کہ ملک میں ایل این جی گیس کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز نہیں، ایل این جی کی قیمت سال میں دو بار جنوری اور جولائی میں بڑھائی جاتی ہے ، ایران سے ایل پی جی گیس کی فراہمی میں کوئی کمی نہیں آئی۔
چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ جنگ جاری رہی تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمت 500 روپے لٹر جانے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے جس پر وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں اوپر جارہی ہیں، وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق قیمتیں مینج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وزیر پٹرولیم نے کہا کہ آج جمعہ کو عالمی نئی قیمت دیکھ کر کوئی فیصلہ کریں گے ۔وزیر مملکت برائے خزانہ بلال کیانی نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا دوبارہ جائزہ آج جمعہ کو لیا جائے گا اور کوشش ہوگی کہ عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے ۔ وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف نے فروری 2026 تک کیے گئے اقدامات کو سراہا ہے اور اگر کشیدگی جاری رہی تو بیرونی فنانس، مہنگائی، ریونیو اور کرنٹ اکاؤنٹ پر اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔
اجلاس میں سٹیٹ بینک اور ایف بی آر کی جانب سے ارکان پارلیمنٹ کو ہراساں کرنے کے معاملے کا بھی نوٹس لیا گیا۔ ارکان نے کہا کہ پولیٹیکل ایکسپوزڈ پرسنز کے نام پر سیاستدانوں، ججوں اور بیوروکریٹس کو مشکلات کا سامنا ہے اور یہ کاروباری ماحول متاثر کر رہا ہے ۔ڈپٹی گورنرسٹیٹ بینک ڈاکٹر عنایت حسین نے کہا کہ یہ ریگولیشنز فیٹف اور آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی مالیاتی اداروں کی ہدایات پر عمل نہ کیا گیا تو پاکستان دوبارہ گرے لسٹ میں جا سکتا ہے ۔چیئرمین پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن ظفر مسعود نے کہا کہ اس مسئلے پر بات چیت کے ذریعے حل نکالا جا سکتا ہے ۔ کمیٹی نے اس معاملے کے لیے ذیلی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ رکن کمیٹی فیصل سبزواری نے کہا کہ انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن نئے بینک اکاؤنٹس کھلوانے کا کہتا ہے ، مگر کمرشل بینک اکاؤنٹس کھولنے میں مشکلات پیدا کرتے ہیں۔