پاکستان پوسٹ میں 1189غیر قانونی بھرتیاں ، 448 برطرف
ڈومیسائل خلاف ورزی، جعلی دستاویزات اور کوٹہ توڑ کر بھرتیاں کی گیں، رپورٹ انکوائری کمیٹیوں کی غفلت برتنے والے افسران کیخلاف کارروائی کی سفارش
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وزارتِ مواصلات کے ذیلی ادارے پاکستان پوسٹ ڈیپارٹمنٹ میں ملک بھر میں 1189 افراد کو مبینہ طور پر میرٹ کے خلاف بھرتی کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے ۔ تحریری دستاویزات کے مطابق 2022-23 کے آڈٹ کے دوران خیبرپختونخوا سرکل میں ہونے والی بھرتیوں میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی جس پر وزارتِ مواصلات نے انکوائری کمیٹی تشکیل دی۔ کمیٹی نے مشتہر کردہ اسامیوں سے زائد تقرریوں کی تحقیقات کی سفارش کی جس کے بعد پاکستان پوسٹ نے مزید تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کی جس نے 17 سفارشات پیش کیں۔تمام فیلڈ فارمیشنز اور پوسٹل سرکلز میں انکوائریاں کی گئیں۔ وزیراعظم آفس نے بھی کابینہ سیکرٹری کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی ۔ ان تحقیقات میں مختلف بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی۔
دستاویزات کے مطابق خیبرپختونخوا، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر، جنوبی پنجاب، ایف سی اور گلگت بلتستان سرکل میں مشتہر اسامیوں سے زائد 636 تقرریاں کی گئیں۔ زائد عمر کے 22، ڈومیسائل کی خلاف ورزی پر 39 اور نااہل امیدواروں (بشمول زائد عمر اور ڈومیسائل مسائل) کے تحت 77 افراد بھرتی کیے گئے ۔مزید برآں 46 ایسے امیدوار بھی تعینات کیے گئے جنہوں نے اسامیوں کے لیے درخواست تک نہیں دی تھی۔ میرٹ کے بغیر 140، تاخیر سے موصول درخواستوں پر 42 اور سابق فوجیوں کے کوٹہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 145 افراد کو بھرتی کیا گیا۔ جعلی دستاویزات یا جعل سازی کے ذریعے 22 افراد کو تقرری دی گئی۔رپورٹ کے مطابق 18 امیدواروں نے ٹیسٹ اور انٹرویو میں شرکت نہیں کی مگر انہیں منتخب کر لیا گیا جبکہ دو افراد ایسے بھی منتخب ہوئے جن کی درخواستوں کا ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ انکوائری کمیٹیوں کی سفارشات کی روشنی میں 448 اہلکاروں کو مشتہر اسامیوں سے زائد تقرری، جعلی دستاویزات جمع کرانے اور کوٹہ کی خلاف ورزی پر برطرف کر دیا گیا۔ کمیٹیوں نے بھرتی کے عمل میں غفلت برتنے والے افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی بھی سفارش کی ہے۔