بابر اعظم کیخلاف جنسی ہراسانی کامقدمہ درج کرنیکا حکم کالعدم قرار

 بابر اعظم کیخلاف جنسی ہراسانی کامقدمہ درج کرنیکا حکم کالعدم قرار

سابق کپتان کیخلاف مقدمہ کا حکم قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں :وکیل صفائی ہائیکورٹ نے بابر اعظم کی درخواست پر 2021 سے حکم امتناعی جاری کر رکھا تھا

لاہور (اے پی پی)لاہور ہائیکورٹ نے قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان بابر اعظم پرجنسی ہراسگی کا مقدمہ درج کرنے کا ماتحت سیشن عدالت کا حکم کالعدم قرار دے دیا ۔تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس اسجد جاوید گھرال نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان بابر اعظم کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج کی جانب سے سابق کپتان کیخلاف جنسی ہراسانی کا مقدمہ درج کرنے کے حکم کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ختم کر دیا ،دوران سماعت بابر اعظم کی جانب سے بیرسٹر حارث عظمت عدالت پیش ہوئے جبکہ سرکاری وکلاء اور درخواست گزار خاتون حمیزہ مختار کے وکیل بھی عدالت میں موجود تھے ۔ وکیل صفائی بیرسٹر حارث عظمت نے موقف اختیار کیا کہ سیشن عدالت کی جانب سے مقدمہ درج کرنے کا حکم قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں ،کالعدم قرار دیا جائے ۔ عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر بابر اعظم کی درخواست منظور کرتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج کی جانب سے خاتون حمیزہ مختار کی درخواست پر 2021 میں مقدمہ درج کرنے کا دیا گیا حکم کالعدم قرار دے دیا۔ یاد رہے عدالت عالیہ نے بابر اعظم کی درخواست پر 2021 سے حکم امتناعی جاری کر رکھا تھا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں