قندھار میں طالبان کاٹیکنیکل سپورٹ انفراسٹرکچر تباہ
طالبان نے شہریوں کونشانہ بناکرسرخ لکیرعبورکی،نتائج سنگین ہونگے :زرداری
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ،نامہ نگار ،مانیٹرنگ ڈیسک)پاک فوج نے آپریشن غضب للحق میں افغان طالبان کے خلاف مؤثر فضائی کارروائی کرتے ہوئے قندھار میں ان کا ٹیکنیکل سپورٹ انفراسٹرکچر اور ایکوپمنٹ سٹوریج تباہ کر دیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ حملے گزشتہ شب کئے گئے اور افغان طالبان و فتنہ الخوارج کے دہشت گرد ٹھکانوں سمیت فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا،جن کی ویڈیو بھی سامنے آگئی ہے ، تباہ شدہ انفراسٹرکچر طالبان اور دہشت گرد اپنے آپریشنز کیلئے استعمال کرتے تھے ۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں اہداف کے حصول تک جاری رہیں گی۔
دوسری طرف صوبہ تخار میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف )کے جنگجوؤں نے بدخشاں کے پولیس چیف خارجی معراج الدین کو ہلاک کر دیا، وہ بدخشاں سے تخار جا رہے تھے کہ راستے میں حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر حملہ کر دیا۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے فتنہ الخوارج کی جانب سے پاکستان پر ڈرون حملوں میں نقصان کادعویٰ من گھڑ ت قرار دے کر افغان طالبان رجیم اور بھارتی سوشل میڈیا کی جانب سے جھوٹا پراپیگنڈا بے نقاب کردیا۔وزارت اطلاعات سے جاری بیان کے مطابق افغان طالبان رجیم کی سرپرستی میں سرکردہ فتنہ الخوارج کی جانب سے بھیجے گئے دو ڈرونز کو پاکستانی سکیورٹی فورسز نے کامیابی سے اپنے جدید الیکٹرانک دفاعی آلات سے تباہ کر دیا،حملوں کی اس ناکام کوشش میں کسی بھی عسکری تنصیب کو نقصان نہیں پہنچا، تباہی کے بعد ڈرونز کا ملبہ گرنے کو افغان و بھارتی پراپیگنڈا سیل بڑھا چڑھا کر پیش کرنے لگے جبکہ نام نہاد افغان وزارت دفاع پہلے ہی اس طرح کی من گھڑت اور جھوٹی کہانیاں پھیلانے کیلئے مشہور ہے ۔
آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق 13 مارچ کو افغان طالبان نے پاکستان میں خوف و ہراس پھیلانے کی غرض سے چند ڈرونز استعمال کئے جنہیں تباہ کردیاگیا، ڈرونز کا ملبہ گرنے سے کوئٹہ میں دو بچے جبکہ کوہاٹ اور راولپنڈی میں ایک ایک شہری زخمی ہوا۔افغان طالبان کی اشتعال انگیزیوں کے سامنے پاکستان نہیں جھکے گا، افغان سر زمین سے ہونے والی دہشت گردی ناقابل برداشت اور ناقابل قبول ہے ۔دوسری طرف پاکستان کے جوابی حملوں کے خوف سے افغان طالبان عہدیدار 4 ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کابل سے صوبہ غور فرار ہوگئے ۔ ذرائع نے بتایا کہ طالبان کے متعدد عہدیدار ہفتہ کی صبح چار ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ممکنہ پاکستانی فضائی حملوں کے خوف سے صوبہ غور پہنچے ،افغان میڈیا نے ان ہیلی کاپٹرز کی تصویر بھی جاری کی ہے ۔ صدرمملکت آصف علی زرداری نے کہادہشت گردافغان طالبان حکومت ہمارے دوست ممالک کے ساتھ مذاکرات کی خواہاں ہے تو دوسری جانب اس نے شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر کے ایک سرخ لکیر عبور کر لی ہے ،انہوں نے افغان طالبان رجیم کی جانب سے پاکستانی شہری علاقوں کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملوں کی مذمت کی۔
ایوان صدر سے جاری بیان میں صدر مملکت نے کہا کہ دہشت اور وحشیانہ طاقت کے ذریعے قائم کی گئی افغانستان کی غیر قانونی حکومت اپنی ان ذمہ داریوں سے مسلسل مکر رہی ہے جن کے تحت اس نے دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اب وہ اسلامی دنیا کی ایک بڑی عسکری طاقت کو اشتعال دلانے کی جسارت بھی کر رہی ہے ۔ان کاکہناتھاکہ پاکستان خلیج کے خطے اور مغربی ایشیا میں امن و استحکام کے فروغ کی کوششوں میں مصروف ہے ۔ غیر قانونی اور دہشت گرد طالبان حکومت نے سرخ لکیر عبور کر کے اپنے اوپر سنگین نتائج مسلط کر لئے ہیں۔بعدازاں صدرمملکت آصف زرداری سے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے ملاقات کی اورپاکستان پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم کے درمیان تعلقات پر گفتگو کی ۔ملاقات میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ،وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ، وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اور دیگربھی موجود تھے ۔ایک اور بیان میں صدرآصف زرداری نے اسلامو فوبیا کے تدارک کے عالمی دن کے موقع پر پیغام میں کہا کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے مطابق ہم دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت، امتیاز اور عدم برداشت کے خلاف متحد کھڑے ہیں۔