ایرانی گیس فیلڈ پرحملے کے بعدعالمی سپلائی چین شدید دباؤ کا شکار

ایرانی گیس فیلڈ پرحملے کے بعدعالمی سپلائی چین شدید دباؤ کا شکار

عالمی معیشت پراثرات تیزی سے ظاہرہونگے ، صنعتی پیداوار متاثر،مہنگائی بڑھے گی ڈیزل ، جیٹ فیول کی قلت کاخدشہ،ٹرانسپورٹ ، ہوابازی شعبے شدید متاثر ہونگے

اسلام آباد (وقائع نگار)اسرائیل کے ایران کے جنوبی فارس گیس فیلڈ پر حملے کے بعد عالمی تیل و گیس سپلائی چین شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ، دوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر میں موجود تیل اور گیس تنصیبات کے قریب رہائش پذیر شہریوں، ملازمین اور دیگر افراد کو علاقہ چھوڑنے کی وارننگ دیدی ، جنگ کے اثرات عالمی معیشت، مہنگائی اور صنعتی پیداوار پر نہ صرف تیزی سے ظاہر ہو نگے بلکہ صنعتی پیداوار متاثر،مہنگائی بڑھے گی ، بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل میں رکاوٹ سے عالمی معیشت پربھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں ،جنگ شروع ہونے کے بعد برینٹ خام تیل کے فیوچرز میں 40 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ، جبکہ یورپ میں قدرتی گیس کے معیار کے طور پر استعمال ہونے والا ڈچ ٹی ٹی ایف انڈیکس 60 فیصد سے بڑھ چکا ہے ، تیل سے تیار ہونے والی مصنوعات کی بعض منڈیاں، خصوصاً ڈیزل اور جیٹ فیول، بھی شدید متاثر ہوئی ہیں، اور اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کئے جا رہے ہیں ،آبنائے ہرمز کے ذریعے خام تیل اور تیل کی مصنوعات کی ترسیل جنگ سے قبل تقریباً 20 ملین بیرل یومیہ تھی، جو اب کم ہو کر نہایت محدود سطح پر آ گئی ہے ، برینٹ خام تیل کی قیمت 100 سے 110 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے ، جبکہ بعض اوقات قیمتوں میں 40 سے 50 فیصد اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا ،ماہرین کے مطابق حملوں کے اثرات صرف خام تیل تک محدود نہیں رہتے بلکہ ریفائنریوں اور گیس تنصیبات کو نقصان پہنچنے سے ڈیزل اور جیٹ فیول کی قلت بھی پیدا ہو سکتی ہے ، جس سے ٹرانسپورٹ اور ہوابازی کے شعبے شدید متاثر ہوتے ہیں ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں