افغانستان:این ایم ایف کا افغان طالبان کیخلاف محاذ بنانے کا اعلان

افغانستان:این ایم ایف کا افغان طالبان کیخلاف محاذ بنانے کا اعلان

افغان طالبان غاصب،دہشت گرد گروہ کے چنگل سے ملک کو بچانے کیلئے تیار سوویت یونین سے جہاد فرض تھا تو آج اس سے بھی زیادہ فرض ہو چکا:بیان یورپین پارلیمنٹ میں افغان طالبان کے مخالفین کا اجلاس، رجیم پر شدید تنقید

 اسلام آباد ، کابل ،برسلز (خصوصی نیوز رپورٹر ، نیوز ایجنسیاں)نیشنل موبلائزیشن فرنٹ نے افغان طالبان رجیم کی انتہا پسندی اور جارحیت کے خلاف محاذ بنانے کا اعلان کر دیا۔نیشنل موبلائزیشن فرنٹ افغانستان کے شمالی اور مشرقی صوبوں کے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ این ایم ایف کے مطابق افغان عوام طالبان کے خلاف کھڑے ہونے کے علاوہ اپنے لیے کوئی اور راستہ نہیں دیکھتے ، افغانستان میں آبادی کا بڑا حصہ سیاسی، معاشی، ثقافتی و سماجی مسائل سے پریشان ہے ۔این ایم ایف کا کہنا تھا کہ سوویت یونین سے جہاد فرض تھا تو آج طالبان سے یہ اس سے بھی زیادہ فرض ہو چکا ہے ، افغان طالبان عوام کے نمائندے نہیں غاصب ہیں، افغانستان پر جبرا ًقبضہ کر رکھا ہے۔

نیشنل موبلائزیشن فرنٹ کا کہناتھا کہ افغان بیٹے اور بیٹیاں اس دہشت گرد گروہ کے چنگل سے ملک کو بچانے کے لیے تیار ہیں، طالبان رجیم مکالمے کی قائل نہیں اور نہ ہی سمجھ بوجھ رکھتی ہے ۔دوسری جانب یورپین پارلیمنٹ میں افغان طالبان کے سیاسی اور عسکری مخالفین نے دو روزہ تاریخی اجلاس منعقد کیا، جس میں افغان رجیم کی انتہا پسندی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور دہشت گرد گروہوں کی حمایت پر شدید تنقید کی گئی۔سابق افغان پارلیمانی رکن فوزیہ کوفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ افغان طالبان نے دوحہ مذاکرات میں کئے گئے وعدوں کو نظر انداز کر کے ملک کو پرتشدد اور انتہا پسند گروہوں کے لئے محفوظ گڑھ بنا دیا ہے ۔ طالبان نے خواتین کو منظم انداز میں سیاسی، سماجی اور معاشرتی زندگی سے خارج کر کے صنفی امتیاز کو ایک مستقل نظام میں بدل دیا، اور رجیم میں اختلاف رکھنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں رہی، صرف حامی محفوظ ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں