ایران امریکا جنگ میں ثالثی ، ضامن کون ہوگا اصل مسئلہ
مشکل صورتحال کے باوجود فریقین پاکستان کو نظر انداز نہیں کر پائیں گے
(تجزیہ:سلمان غنی)
ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکراتی عمل میں پاکستانی کردار کی تصدیق تو وزیر خارجہ اسحق ڈار نے واضح طور پر کر دی ہے اور بتا دیا ہے کہ پاکستان تناؤ کے خاتمہ اور امن کے قیام کیلئے پوری طرح پرعزم ہے لیکن امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگی صورتحال میں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اگر بالواسطہ مذاکراتی عمل کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے تو پھر اس ضمن میں معاہدہ خصوصاً امریکا کی گارنٹی کون دے گا ،جس پر ایران اعتبار کر پائے گا ۔ کیونکہ اس سے پہلے بھی دو مرتبہ عمان اور قطر میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں پیش رفت نہ ہو سکی بلکہ آخری دفعہ تو معاہدہ کے حوالہ سے ایسی خبریں آئی تھیں کہ بڑا اپ سیٹ ہو گیا ہے اور معاہدہ ہونے کے قریب ہے ،لیکن امریکا نے ایران پر حملہ کر دیا اور اس حملہ کے نتیجہ میں بڑے پیمانے پر مالی و جانی نقصان ریکارڈ کا حصہ ہے۔
لہٰذا مذکورہ صورتحال میں دو تین اہم سوالات ہیں کہ پاکستان کو فریقین ثالث مان چکے ہیں اور بالواسطہ مذاکراتی عمل کے نتیجہ میں اگر کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو اس کا ضامن کون ہوگا اور پاکستان کی ان کوششوں کاوشوں کو کن کن کی تائید و حمایت حاصل ہوگی اور خود پاکستان کو اس ساری تگ و دو میں سے کیا ملے گا کیونکہ امریکا ایران کے درمیان پیدا جنگی صورتحال کوئی آسان اور سادہ معاملہ نہیں، یہ ایک گھمبیر اور مشکل ٹاسک ہے اور اگر پاکستان اس مرحلہ میں آگے آیا ہے تو اس کی خود اعتمادی کے ساتھ لازماً انہیں بعض عالمی و علاقائی قوتوں کی تائید و حمایت حاصل ہوگی ۔۔ویسے بھی اگر دیکھا جائے تو پاکستان اور امریکا کے درمیان دس مئی 2025کے بعد اعتماد اور اعتبار کا سلسلہ بحال ہوا ہے اورصدر ٹرمپ پاکستان کی لیڈر شپ خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف اور مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف اور ان کے امن کے حوالے سے کردار کا اعتراف کرتے نظر آئے ہیں ،خصوصاً فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے حوالے سے ان کے جذبات اب سیاسی تاریخ کا حصہ ہیں۔
دوسری جانب ایران پر آنے والے امریکی دباؤ کے باوجود یہ پاکستان ہی ہے جس نے کسی قسم کے دباؤ میں آنے کی بجائے اپنی ہمسائیگی کو ترجیح دی اور برادر ملک ایران کے خلاف کسی بھی عمل کا حصہ بننے سے انکار کیا اور ماضی میں پاکستان کی امریکا سے تعلقات کی بھی ایک تاریخ ہے ۔کہا یہ جا رہا ہے کہ مشکل صورتحال کے باوجود فریقین پاکستان کو نظر انداز نہیں کر پائیں گے خصوصاً ایران جس کی خلیجی ممالک سے بھی کشیدگی ہے ، ترکیہ سے بھی تعلقات میں تناؤ ہے ، تو ایسے میں پاکستان ہی واحد ملک ہے جو ایک مثبت کردار کا حامل ہو سکتا ہے اور امریکا بھی ان مذاکرات کے لئے پاکستان پر ہی اعتماد کرے گا، کیونکہ علاقائی صورتحال میں انڈیا غیر جانبدار کردار ادا نہیں کر سکتا۔ ویسے بھی ایران پر حملے سے دو روز قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی اسرائیل میں موجودگی قابل ذکر ہے اور وہ واضح طور پر اپنا وزن اسرائیل کے پلڑے میں ڈال چکا ہے۔
اگر پاکستان اس حوالے سے کوئی معاہدہ کرانے میں کامیاب رہتا ہے تو پھر اس خطے میں پاکستان کا بڑا کردار اور اس کی سفارتی حیثیت و اہمیت بڑھے گی لیکن اس کے ساتھ ایک بڑا خطرہ بھی ہوگا کہ اگر پاکستان اس حوالے سے کسی پیش رفت میں ناکام رہتا ہے تو یہ نقصان صرف پاکستان کا ہی نہیں ہوگا بلکہ اس کے اثرات پورے علاقہ پر نظر آئیں گے اور یہ تنازع شدت اختیار کرے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال تو پاکستان کے اس ثالثی کردار نے اس کی اہمیت کو بڑھا دیا ہے اور اسلام آباد دنیا کی نظروں کا مرکز بن رہا ہے ۔ اسلام آباد کسی خیر کی ضمانت تو نہیں دے پائے گا لیکن وہ اپنی سرزمین اور اپنے کردار کے ذریعہ دو متحارب قوتوں کو بات چیت کا موقع ضرور فراہم کر رہا ہے ۔ابھی فی الحال باضابطہ مذاکراتی عمل تو شروع نہیں ہوا لیکن مذاکراتی عمل کے حوالے سے یہ طے کرنا ہوگا کہ ثالث کا اپنا مینڈیٹ کیا ہوگا۔ اس سے قبل گزشتہ برس قطر اور عمان نے بھی ثالثی کردار ادا کرتے ہوئے معاملات کے سلجھانے میں اپنا کردار ادا کیا تھا ،لیکن دونوں مرتبہ ایران پر حملوں کے نتیجہ میں بات چیت کا عمل ہوا میں تحلیل ہوگیا۔