ٹرمپ غیر مشروط سرنڈر سے 15نکات پر آگئے

 ٹرمپ غیر مشروط سرنڈر  سے 15نکات پر آگئے

ایران چاہتا ہے کہ امریکا اور اسرائیل آئندہ حملے سے پہلے دوبار سوچیں مذاکرات محض دکھاوا ، ٹرمپ زمینی حملے کیلئے ہزاروں فوجی خلیج منتقل کر رہے زمینی حملہ ہو ا تو حوثی باغی بحری جہازوں کو نشانہ بنا کر تنازع کو بڑھا دینگے

پیرس(اے ایف پی )تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی طرف سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 15نکات پر مشتمل امن پلان کو مسترد کرنا اور جنگ بندی کیلئے اپنی شرائط بیان کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران مذاکرات میں اپنے موقف پر زیادہ اعتماد رکھتا ہے ۔امریکا اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے باوجود، جن میں ایران کے اعلیٰ حکام مارے گئے اور بھاری مالی نقصان ہوا، ایران کا حکومتی نظام برقرار ہے اور وہ اپنے ہمسایہ ممالک اور اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران نے ہرمز کے تنگ راستے پر جہاز رانی روکنے کی صلاحیت دکھا کر تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھا دی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عالمی معیشت کے ایک بڑے حصے پر اثر انداز ہو سکتا ہے ۔راس ہیریسن، جو مشرقِ وسطٰی کے امور پر کام کرنے والے تھنک ٹینک کے سینئر محقق اور "ایران کی خارجہ پالیسی کی تشریح" کے مصنف ہیں، کہتے ہیں کہ انہوں نے محسوس کیا ہے کہ ایرانی رہنما اس وقت خود پر کافی اعتماد کر رہے ہیں۔

تہران مذاکرات پر شکوک و شبہات رکھتا ہے اور ممکنہ حملے کے خلاف روک تھام پیدا کرنا چاہتا ہے ۔یہ روک تھام اس طریقے سے ہوگی کہ ایران امریکا اور عالمی معیشت کو اتنا نقصان پہنچائے کہ ٹرمپ یا اسرائیل دوبارہ ایران پر بمباری کرنے سے پہلے دو بار سوچیں۔ہیریسن کے مطابق ایران کی حکمت عملی امریکی حکمت عملی سے زیادہ سیدھی اور واضح ہے کہ نظام کی بقاء اور مستقبل میں کسی حملے کے امکانات کو ختم کیا جائے ۔تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ فی الحال تمام فریقین میں بہت زیادہ دکھاوا اور حوصلہ مندی دیکھی جا رہی ہے ، اور ایرانی رہنماؤں کو اپنے اقدامات میں حد سے تجاوز کرنے سے بچنے کی ضرورت ہے ۔

پیرس کے سوربون یونیورسٹی کے مشرقِ وسطٰی کے ماہر گیلوم لاسکونجاریا کے مطابق صدر ٹرمپ نے ابتدا میں ایران سے غیر مشروط سرنڈر کا مطالبہ کیا تھا، لیکن اب وہ 15 نکات پر مشتمل امن منصوبہ پیش کر رہے ہیں۔لاسکونجاریا کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں جو پہلے ہاتھ بڑھاتا ہے ، وہ کمزور دکھائی دیتا ہے ، لیکن حقیقت میں ایران بہت کمزور ہوا ہے ، اس کے سیاسی اور فوجی اہم رہنما ہلاک ہو چکے ہیں، میزائل اڈے ، جوہری پروگرام، ملکی سکیورٹی فورسز اور بحریہ پر فضائی حملے ہو چکے ہیں۔ایران کی معیشت پہلے ہی مہنگائی اور پابندیوں سے متاثر تھی اور جنگ کے بعد تقریباً رک گئی ہے ۔ نتیجہ اس بات پر منحصر ہے کہ ٹرمپ کتنی جلدی جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں اور ایران کتنے عرصے تک مزاحمت کر سکتا ہے ۔یونیورسٹی آف شکاگو کے سیاسی اور فوجی ماہر رابرٹ پیپ کے مطابق یہ مذاکرات محض دکھاوا ہیں، کیونکہ ٹرمپ ہزاروں فوجیوں اور میرینز کو خلیج میں ممکنہ زمینی کارروائی کیلئے منتقل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ جنگ کہاں جا رہی ہے تو جو کہا جا رہا ہے اسے نظرانداز کریں، دیکھیں کہ کون سے اقدامات ہو رہے ہیں۔ایک ایرانی فوجی اہلکار نے بدھ کو سرکاری میڈیا کے ذریعے خبردار کیا کہ اگر زمین پر حملہ ہوا تو تہران یمن میں حوثی باغیوں کے ذریعے بحری جہازوں پر حملے کرے گا، جس سے تنازع بہت وسیع ہو سکتا ہے ۔

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں