11 دن کا خام تیل، مزید کارگوز راستے میں، بلاتعطل فراہمی ترجیح : وزیر خزانہ

11 دن کا خام تیل، مزید کارگوز راستے میں، بلاتعطل فراہمی ترجیح : وزیر خزانہ

ڈیزل کے ذخائر 23سے 24دن کی ضروریات کیلئے کافی ، پٹرول کی دستیابی بھی اطمینان بخش قرار پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے اثرات عوام تک کم سے کم منتقل کرینگے :اورنگزیب

 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی کو تسلی بخش قرار دے دیا ۔ پٹرول کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے قائم کابینہ کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ اورنگزیب کی زیر صدارت ہوا جس میں ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر، رسد، درآمدی منصوبوں اور توانائی شعبے کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا اور عالمی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے اثرات کو عوام تک کم سے کم منتقل کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مشکل عالمی حالات کے باوجود بروقت منصوبہ بندی کے باعث ملک میں ایندھن کی فراہمی مستحکم ہے ۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک میں ڈیزل کے ذخائر تقریباً 23 سے 24 دن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں جبکہ پٹرول کی دستیابی بھی اطمینان بخش ہے ، کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ خام تیل کے موجودہ ذخائر تقریباً 11 دن کے لیے کافی ہیں جبکہ مزید کارگوز راستے میں ہیں اور طے شدہ درآمدات کے باعث اپریل میں ریفائنری آپریشنز اور پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی برقرار رہے گی۔ پٹرولیم ڈویژن نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اپریل کے لیے درآمدی منصوبہ آگے بڑھایا جا رہا ہے اور خاطر خواہ مقدار پہلے ہی حاصل کی جا چکی ہے ۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ ریفائنریاں اپنی بہترین استعداد کے مطابق کام کر رہی ہیں تاکہ خام تیل کو بروقت ریفائنڈ مصنوعات میں تبدیل کر کے ملکی طلب پوری کی جا سکے ۔

کمیٹی نے اس بات کا بھی نوٹس لیا کہ وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں سٹریٹجک پٹرولیم ریزروز فریم ورک پر فوری کام شروع کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس سلسلے میں پٹرولیم ڈویژن کو ہدایت دی گئی کہ آئندہ اجلاسوں کے لیے ایک مربوط فریم ورک تیار کیا جائے ، خطے کی موجودہ صورتحال کے باعث سپلائی سے متعلق خدشات پیدا ہوئے ہیں جس سے ڈیزل اور پٹرول دونوں کی درآمدی لاگت میں اضافہ ہوا ہے ۔ اجلاس میں وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر بحری امور جنید انور اور وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سمیت متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے اعلیٰ حکام نے شر کت کی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں