ہمت کرو،ہرمزجاؤ اور تیل لے آؤ ورنہ ہم سے خریدلو:ٹرمپ کو اپنے اتحادیوں پر غصہ
امریکا اب آپ کی مدد کو نہیں آئے گا، بالکل ویسے ہی جیسے آپ ہمارے لئے نہیں آئے ، امریکی صدر ، فرانس کا اسرائیلی اوراٹلی کا امریکی جنگی طیاروں کو انکار ،کسی سے نہیں ڈرتے :سپین
واشنگٹن (نیوز ایجنسیاں )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غصے میں اپنے اتحادیوں پر برس پڑے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ برطانیہ جیسے ممالک جو آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے جیٹ فیول حاصل نہیں کر پا رہے ، ا نہیں چاہیے کہ خود میں ہمت پیدا کریں، آبنائے ہرمز جائیں اور بس تیل لے آئیں۔ا نہوں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ امریکا سے تیل خرید لیں کیونکہ ہمارے پاس بہت زیادہ ہے ۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں امریکی صدر نے لکھا کہ ملکوں کو سیکھنا پڑے گا کہ اپنی خاطر لڑائی کیسے لڑی جاتی ہے ۔ امریکا اب آپ کی مدد کو نہیں آئے گا، بالکل ویسے ہی جیسے آپ ہمارے لئے نہیں آئے تھے ۔ٹرمپ کے مخاطب وہ ممالک تھے جنہوں نے ایران کے خلاف کی جانے والی امریکی کارروائی میں حصہ لینے سے انکار کیا۔امریکی صدر کی پوسٹ میں مزید کہا گیا: ایران بنیادی طور پر تباہ ہو چکا ہے ، یہ مشکل کام اب ختم ہو گیا ہے ۔پوسٹ کا اختتام ان الفاظ پر ہوا: جا کر اپنا تیل خود لے آئیں!ٹروتھ سوشل کی ایک اور پوسٹ میں امریکی صدر نے فرانس کے خلاف بھی اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔ا نہوں نے لکھا: فرانس نے اسرائیل کے لئے عسکری سامان لے جانے والے طیاروں کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت نہیں دی۔ٹرمپ نے ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے قتل میں کردار ادا نہ کرنے پر بھی فرانس سے شکوہ کیا اور لکھا: فرانس بہت غیر مدد گار رہا، امریکا یہ بات یاد رکھے گا۔رائٹرز کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ فرانس اور اٹلی نے سپین کی طرح امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر اعتراض کیا ہے ، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپ میں نیٹو کے اتحادیوں کو ایک ماہ پر محیط جنگ میں غیر معاون قرار دیتے ہوئے اختلافات کو اجاگر کیا۔یہ فیصلے اس پس منظر میں سامنے آئے ہیں کہ واشنگٹن اور اس کے اہم شراکت داروں کے درمیان ایران کی جنگ پر کشیدگی جاری ہے ۔
اس ماہ کے اوائل میں، ٹرمپ نے طویل عرصے سے نیٹو کے اتحادیوں کو ایران کے خلاف حمایت نہ کرنے پر \"بزدل\" قرار دیا تھا۔ایک مغربی سفارتکار اور معاملے سے واقف دو ذرائع نے خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ فرانس نے اسرائیل کو ایران کے خلاف جنگ میں استعمال ہونے والے امریکی ہتھیاروں کی ترسیل کے لئے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ذرائع کے مطابق یہ انکار ہفتے کے آخر میں ہوا اور ایران کے خلاف جاری تنازع کے آغاز کے بعد فرانس کی طرف سے پہلی بار ایسا قدم اٹھایا گیا ہے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی طیارے امریکی ہتھیار لے جا رہے تھے ، اسی لئے انہوں نے فرانس سے فضائی حدود استعمال کرنے کی درخواست کی تھی، مگر اسے مسترد کر دیا گیا۔ اٹلی نے بھی امریکی فوجی طیاروں کو ایک فضائی اڈے پر اترنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ذرائع کے مطابق، اٹلی نے امریکی فوجی طیاروں کو مشرقِ وسطیٰ روانگی سے قبل سسلی میں واقع \"Sigonella\" ایئر بیس پر اترنے کی اجازت نہیں دی۔سپین پہلے ہی امریکی جنگی طیاروں کے لئے اپنی فضائی حدود بند کر چکا ہے ۔وزیرِ خارجہ جوسے مینوئل البارس نے سرکاری نشریاتی ادارے سے گفتگو میں کہا کہ سپین کسی بھی ممکنہ انتقامی کارروائی سے خوفزدہ نہیں ہے ۔ ان کے بقول:ہم کسی بھی خطرے سے نہ گھبراتے ہیں، نہ ڈرتے ہیں۔ وہ ملک کس بات سے خوفزدہ ہو سکتا ہے جو بین الاقوامی قانون، عالمی امن اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کر رہا ہو؟ اگر دنیا میں وہ خوفزدہ ہوں جو قانون کی پابندی کرتے ہیں، تو پھر ہم کس قسم کی دنیا میں جی رہے ہوں گے ؟
تہران (نیوز ایجنسیاں )صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران میں تیل کے کنوؤں اور بجلی کے نظام کو تباہ کرنے کی دھمکی کے بعد امریکی اور اسرائیلی حملوں کی ایک لہر نے توانائی کی تنصیبات ، کینسر کی دوا تیار کرنے والی فیکٹری اور ایک مذہبی مقام کو نشانہ بنایا ۔ اے ایف پی کی تصدیق شدہ ویڈیو فوٹیج میں اصفہان، وسطی ایران میں کم از کم دو بڑے دھماکوں اور دھوئیں کے بادل دکھائے گئے ۔ سرکاری میڈیا نے شمال مغربی ایران کے زنجان میں واقع ایک شیعہ مذہبی مرکز \"گرینڈ حسینیہ\" کو نقصان پہنچنے کی اطلاع دی۔ایرانی حکومت نے یہ بھی بتایا کہ فضائی حملوں میں کینسر کی دوائیں اور بے ہوشی کی دوا تیار کرنے والی ایک فیکٹری کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ وزارتِ صحت کے ایک اہلکار نے آئی ایس این اے نیوز ایجنسی کو بتایا کہ قشم جزیرہ، آبنائے ہرمز میں واقع ایک پانی صاف کرنے والا پلانٹ بمباری کے بعد \"مکمل طور پر غیر فعال\" ہو گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ تہران کے مختلف حصوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور کئی علاقوں میں بجلی بند ہو گئی۔ شہر کے رہائشیوں نے بتایا کہ سخت سکیورٹی کے باوجود وہ معمولاتِ زندگی کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ایران نے دبئی کے ساحل کے قریب ایک کویتی خام تیل بردار ٹینکر پر ڈرون حملہ کر کے اسے آگ لگا دی ۔جبکہ جنوبی دبئی میں روکے گئے ایک میزائل کا ملبہ گرنے سے رہائشی گھروں کو نقصان پہنچا اور چار ایشائی افراد زخمی ہو گئے ۔سعودی دارالحکومت ریاض میں منگل کے روز متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ریاض کے جنوب مشرقی علاقے میں ایک ڈرون کو مار گرانے کی کارروائی کے دوران اسکے ملبے سے دو افراد زخمی ہو گئے ۔ تین گھروں اور متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ الخرج صوبہ میں پر نس سلطان ایئر بیس بھی ہے ۔جنوبی لبنان میں کارروائی کے دوران 4اسرائیلی فوجی ہلاک اور 2 زخمی ہو گئے ۔عراق کی پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف)کی صوبہ انبار میں17ویں بریگیڈ پرحملے میں دو ارکان ہلاک اور چار زخمی ہو گئے ۔