چیف جسٹس کی زیرصدارت اجلاس:2018تک دائر مقدمات ترجیحی بنیادوں پر مقرر کرنے کا فیصلہ
سزائے موت کی زیر التوا اپیلیں اگلے 30 دن میں مقرر ،عدالتی فیسوں کیلئے ای پیمنٹ سہولت کی ایک ہفتے میں فراہمی کا حکم شفاف، جدید اور عوام دوست نظامِ انصاف کے قیام کے لیے اصلاحات کا عمل جاری رکھا جائے گا،جسٹس یحییٰ آفریدی کا خطاب
اسلام آباد (دنیا نیوز،نیوز ایجنسیاں )چیف جسٹس پاکستان یحیی آفریدی کی زیر صدارت عدالتی اصلاحات پر پیش رفت کا دسواں جائزہ اجلاس ہوا جس میں ریفارم ایکشن پلان کے تحت ماہانہ کارکردگی، عدالتی عمل کو جدید بنانے اور ادارہ جاتی کارکردگی بڑھانے کا جائزہ لیا گیا۔سپریم کورٹ کے اعلامیہ کے مطابق وفاقی محتسب نوید کامران بلوچ نے مبصر کے طور پر اجلاس میں شرکت کی، نوید کامران نے کارکردگی کی نگرانی کے کلیدی کارکردگی پر زور دیا۔ اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران 3600 نئے کیسز دائر ہوئے جبکہ 5383 کیسز نمٹائے گئے ، سپریم کورٹ میں زیر التوا کیسز کی کل تعداد کم ہو کر 34083 رہ گئی۔ اعلامیہ کے مطابق اکتوبر 2024 میں سزائے موت کے زیر التوا کیسز کی تعداد 384 تھی جو اب کم ہو کر صرف 60 رہ گئی ہے ، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں اگلے 30 دنوں کے اندر سماعت کے لیے مقرر کی جائیں گی۔
سالانہ بیک لاگ ختم کرنے کے لیے 2018 تک دائر ہونے والے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، کیسز کی درجہ بندی اور فائل ٹریکنگ کے لیے بار کوڈنگ سسٹم 30 دنوں میں مکمل کر لیا جائے گا۔اعلامیہ کے مطابق تصدیق شدہ نقول اور نظرثانی درخواستوں کے لیے پبلک فسیلی ٹیشن سینٹر کے ذریعے ای-پیمنٹ سسٹم فعال کر دیا گیا ہے ، عدالتی فیسوں کی تمام کیٹیگریز کے لیے ای-پیمنٹ کی سہولت ایک ہفتے کے اندر فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ پبلک فسیلی ٹیشن سینٹر نے گزشتہ تین ماہ میں تقریباً 20802 سروس درخواستوں پر سہولت فراہم کی ، اے ڈی آر اور ثالثی کے اقدامات کی معیار کی یقین دہانی 30 اگست 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے ۔ اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس پاکستان یحیی آفریدی نے ای-فائلنگ اور ڈیجیٹائزیشن میں تعاون پر بار کی کوششوں کو سراہا۔ چیف جسٹس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شفاف، جدید اور عوام دوست نظامِ انصاف کے قیام کے لیے اصلاحات کا عمل جاری رکھا جائے گا۔