افغانستان کی تحریری گارنٹی تک آپریشن رکنے والا نہیں،افتخار فردوس
نمائندہ خصوصی چین نے بیجنگ، اسلام آباد،کابل کے دورے کئے توگفتگو شروع ہوئی جنگ چین کے مفادات کیخلاف:ماہر افغان امور،’’دنیا مہربخاری کے ساتھ‘‘میں گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)افغان امور کے ماہر افتخار فردوس نے کہا ہے کہ چین میں پاکستان اور افغانستان کے مذاکرات میں یہ نظر نہیں آیا کہ اس کے نتیجے میں پاکستان کا آپریشن رک جائے گا ، نہ افغان طالبان کی طرف سے پاکستان کے مطالبات کے حوالے سے کوئی ضمانت دی گئی ہے ،ایک عندیہ دیا گیا کہ بات چیت جاری ر ہے گی، دنیا نیوز کے پروگرام’’دنیا مہربخاری کے ساتھ‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ چین کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان نے گزشتہ ماہ 7 سے 14 تاریخ تک کے درمیان بیجنگ، اسلام آباد، کابل کے دورے کئے ،پھر یہ فیصلہ ہوا کہ جو بات چیت قطر، تر کیہ میں ادھوری رہ گئی ہے اس کو وہیں سے شروع کیا جائے گا، فی الحال چین نے ڈپلومیسی کا راستہ اختیار کیا ہوا ہے ،وینرویلا ہو، افغانستان ہو یا ایران ،چین ڈپلومیسی کا دامن نہیں چھوڑنا چاہتا، کیونکہ جنگ ان کے مفادات کے خلاف جاتی ہے ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جہاں تک مجھے علم ہے کہ افغان طالبان نے کچھ چیزوں پررضا مندی ظاہر کی ہے ،پاکستان کا بنیادی مطالبہ انسداد دہشتگردی سے متعلق ہے ، ٹی ٹی پی یا وہ لوگ جو بلوچستان میں دہشتگردی میں ملوث ہیں،جب تک ان کی پاکستان کو حوالگی نہیں ہو تی، تحریری طور پر کوئی گارنٹی نہیں دی جاتی اس وقت تک آپریشن رکنے والا نہیں۔