پٹرول 137.23، ڈیزل 184.49 روپے لٹر مہنگا : موٹر سائیکل سواروں کو ہر ماہ 20 لٹر تک 100 روپے فی لٹر سستا پٹرول دیا جائیگا : وزیر خزانہ
پٹرول 458 روپے 40 پیسے ، ڈیزل 520 روپے 35 پیسے لٹر ہوگیا،پٹرول پرلیوی میں 55 روپے 24 پیسے اضافہ ،مسافر بسوں کو1 لاکھ ،بڑی مال بردار گاڑیوں کو 80ہزارروپے ماہانہ،پبلک ٹرانسپورٹ کو 100روپے فی لٹرسبسڈی ملے گی مٹی کا تیل 34روپے 8 پیسے ، لائٹ ڈیزل 29 روپے 41 پیسے مہنگا، مارکیٹس رات 8بجے بند کرنے کا فیصلہ،وسائل کم ،بوجھ عوام تک منتقل کرنا لازمی ہو گیاتھا:علی پرویز،محمد اورنگزیب، وفاق، صوبے کم اہم منصوبوں کو روکیں:شہباز شریف
اسلام آباد(نامہ نگار ،مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں)حکومت نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور علاقائی بحران کے پیش نظر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ کر دیا ، پٹرول 137 روپے 23 پیسے اور ڈیزل 184 روپے 49پیسے فی لٹر مہنگا ہوگیا،موٹرسائیکل سواروں کو پر پٹرول پر 3ماہ کیلئے اور انٹرسٹی پبلک ٹرانسپورٹ کو ڈیزل پر فی لٹر 100روپے سبسڈی ملے گی ،نئی قیمتوں کا اطلاق گزشتہ رات 12بجے سے ہوگیا۔وزیرپٹرولیم علی پرویز ملک نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پٹرول کی قیمت میں 137.23 روپے فی لٹر اضافہ کیاگیا جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 458 روپے 40 پیسے (1.64 امریکی ڈالر)فی لٹر ہو گئی جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 184روپے 49پیسے اضافے کے ساتھ 520 روپے 35 پیسے (1.86 امریکی ڈالر)ہوگی۔مٹی کا تیل 34روپے 8پیسے مہنگا ہوااورنئی قیمت 467روپے 48پیسے فی لٹرہوگئی جبکہ لائٹ ڈیزل 29روپے 41پیسے مہنگا ہوا اور نئی قیمت 395روپے 3پیسے فی لٹر ہوگئی۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، فوجی قیادت اور سیاسی قائدین نے شرکت کی۔ علی پرویز ملک نے کہا کہ خلیجی جنگ کی وجہ سے پورے خطے میں توانائی کی قیمتوں کا بھونچال آیا ہوا ہے ، خام تیل کی قیمتیں عالمی سطح پر ریکارڈ حد تک بڑھ چکی ہیں جس کے باعث حکومت کو مشکل اور ذمہ دارانہ فیصلے لینے پڑے ۔خارجہ محاذ پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اہم کردار ادا کیا ہے تاہم قیمتوں میں اضافہ اب ناگزیر ہو چکا تھا۔ وزیراعظم نے کفایت شعاری مہم کے تحت کابینہ ارکان کی تنخواہوں میں کٹوتی کی ہے اور قوم کو اس وقت اتحاد کی اشد ضرورت ہے ۔ صدر مملکت آصف علی زرداری اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے توانائی کی قیمتوں کے حوالے سے گائیڈ کیا۔ان کاکہناتھاکہ ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کی آگ کسی نہ کسی طرح بجھ جائے ۔
ان ممالک میں جن کے پاس خام تیل کے وسیع ذخائر بھی موجود ہیں، آج وہاں بھی توانائی بحران ہے ، پٹرول پمپس پر عوام کا رش ہے ، وہاں پر پٹرول پمپس اور تیل ڈپو کے باہر مسلح افواج تعینات ہیں۔ حکومت نے اپنی بجٹ حدود کے مطابق عوام کو تحفظ دینے کی بھرپور کوشش کی لیکن وسائل محدود ہونے کی وجہ سے قیمتوں میں اضافے کو عوام تک منتقل کرنا لازمی ہو گیا کیونکہ اس وقت جنگ کے خاتمے کی کوئی علامات نظر نہیں آ رہی ہیں۔وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ آج بڑی بیٹھک ہوئی جس میں تمام قیادت کے علاوہ فوجی قیادت بھی موجود تھی اوراہم فیصلے کئے گئے ، اب عام سبسڈی کے بجائے صرف مستحق طبقات کو ٹارگٹڈ سبسڈی دی جائے گی،موٹر سائیکل سواروں کو 3ماہ تک 100روپے فی لٹر سبسڈی دی جائے گی اوریہ سبسڈی ماہانہ 20لٹر کیلئے ہوگی جبکہ انٹرسٹی پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی ڈیزل پر 100روپے فی لٹر سبسڈی ملے گی۔چھوٹے زمینداروں کیلئے فصل کی کٹائی کے وقت 1500 روپے ایک بار سبسڈی دی جائے گی جبکہ انٹر سٹی مسافر گاڑیوں اور مال بردار گاڑیوں کیلئے 100 روپے فی لٹر، مال بردار ٹرک کیلئے ماہانہ 70 ہزار روپے ، بڑی مال بردار گاڑیوں کیلئے 80 ہزار روپے ، مسافر بسوں کیلئے ایک لاکھ روپے ماہانہ سبسڈی مقرر کی گئی ہے ۔
وزیرخزانہ نے بتایا کہ حکومت ایک ماہ بعد سبسڈی کے حوالے سے پھر نظر ثانی کرے گی، ریلوے کو بھی سبسڈی دی جائے گی جس کا فائدہ لوئر کلاس کے مسافروں کو ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ مارکیٹیں دن کے اوقات میں کھلیں گی اوررات 8بجے تک بند کردی جائیں گی تاکہ بجلی کی کھپت اور ایندھن کو بچایا جائے ، مارکیٹ کے اوقات صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشاورت کر کے اگلے ہفتے تک طے کرلئے جائیں گے ۔ذرائع کے مطابق حکومت نے پٹرول پر لیوی میں 55 روپے 24 پیسے فی لٹر اضافہ کیا ہے ، جس سے پٹرول پر لیوی 160 روپے 61 پیسے فی لٹر ہوگئی ،اس سے پہلے پٹرول پر لیوی 106 روپے فی لٹر تھی،رواں مالی سال میں پٹرول پر لیوی کا ہدف ایک ہزار468 ارب روپے مقرر ہے ،ڈیزل پر لیوی 55 روپے 24 پیسے مقرر تھی تاہم اب ڈیزل پر لیوی صفر کر دی گئی ہے ۔نئی قیمتوں کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 42.7 فیصد اور ڈیزل کی قیمت میں 54.9 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔دوسری طرف نیپال نے گزشتہ روز جیٹ فیول کی قیمتیں تقریباً دگنی کر دی ہیں،جیٹ فیول کی قیمت 127 نیپالی روپے سے بڑھ کر 251 روپے فی لٹر ہو گئی ہے جو تقریباً 97.6 فیصد اضافہ بنتاہے ۔
ترجمان نیپال آئل کارپوریشن منوج ٹھاکر کاکہناتھاکہ پچھلے دو ہفتوں میں کارپوریشن کوپانچ ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے ۔مشرق وسطیٰ کے بحران کے سبب تائیوان کی ایئر لائنز منگل کے روز سے ایندھن کے اضافی چارجز میں 157 فیصد اضافہ کریں گی۔سول ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن اور وزارت ٹرانسپورٹیشن کے مطابق قریبی فاصلے کی پروازوں کے چارجز 27.50امریکی ڈالر سے بڑھ کر 45ڈالر اور طویل فاصلے کی پروازوں کیلئے 71.50 سے بڑھ کر 117 ڈالرہو جائیں گے ۔چینی ایئرلائنز نے بھی 800 کلومیٹر تک کی پروازوں کے اضافی چارجز میں 60 یوآن اورطویل فاصلے کی پروازوں کیلئے 120 یوآن اضافہ کااعلان کیاہے ۔ بنگلہ دیش نے گیس سلنڈر اور کچھ گاڑیوں میں استعمال ہونے والی کمپریسڈ نیچرل گیس کی قیمتوں میں 29 فیصد اضافہ کردیا۔
اضافے کے بعد 12 کلوگرام ایل پی جی سلنڈر کی قیمت ایک ہزار 341 ٹکا سے بڑھ کر ایک ہزار 728 ٹکا ہوجائے گی۔ملائیشیا کے وزیراعظم انورابراہیم نے اعلان کیاہے کہ مشرق وسطیٰ کے جنگی بحران کے دوران توانائی کے استعمال کو کم کرنے کیلئے 15 اپریل سے وزارتوں، ایجنسیوں، قانونی اداروں اور سرکاری کمپنیوں کیلئے ورک فرام ہوم کی پالیسی نافذ کی جائے گی۔چیک ریپبلک حکومت نے فیول پر اضافی منافع پر پابندی عائد کر دی،دوہفتے قبل چیک میں پٹرول 3.66کرونا فی لٹر تھا جس کی قیمت اب 41.36کرونا ہے جبکہ ڈیزل 6.29کرونا مہنگا ہوکر 48.08 کرونا میں بک رہاہے ۔ حکومت نے اعلان کیا کہ 8 اپریل سے کمپنیاں فی لٹر 2.5 کرونا سے زیادہ منافع نہیں کما سکیں گی جبکہ ڈیزل پر ایکسائز ٹیکس 9.95 کرونا سے کم کر کے 2.35 کرونا فی لٹر کر دیا گیاہے۔
اسلام آباد (نامہ نگار)وزیراعظم شہباز شریف نے خطے میں جاری جنگی صورتحال کے باعث پیدا ہونے والی معاشی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے قومی یکجہتی، اتحاد و اتفاق، سیاسی استحکام اور مل کر چیلنجز سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا اورکہا ہے کہ اب اشرافیہ کو قربانی دینی ہوگی، غریبوں کو بچانا ہوگا ،امریکا اسرائیل اور ایران کی جنگ کے باعث بے پناہ معاشی مشکلات کا سامناہے ، وفاق اور صوبے کم اہم منصوبے روکیں تاکہ عام آدمی کا تحفظ کیا جا سکے ، کفایت شعاری کے ذریعے فنڈز جمع کرنے ہوں گے ، زرعی شعبے اور پبلک و گڈز ٹرانسپورٹ کو محفوظ بنایا جائے تاکہ مہنگائی کا اثر عام شہری پر کم سے کم پڑے ۔سیاسی استحکام سے ہی معاشی استحکام ممکن ہے اور سب کو اس میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔
وزیراعظم نے خطے کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں بتایا کہ وفاق اب تک 129 ارب روپے کا بوجھ اٹھا چکا ہے اور پاکستان جنگ بندی کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے ،خدا ہ کی مہربانی سے خطے میں امن قائم ہوگا۔اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزرا، چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ، آزاد کشمیر کے وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی موجود تھے ۔وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں جنگ دوسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے اور شہادتوں پر گہرا افسوس ہے ۔ پاکستان نے مخلص دوست اور برادر ملک کے طور پر خطے میں جنگ کے شعلے ٹھنڈے کرنے کی بھرپور کوششیں کی ہیں، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایران کے ہم منصب اور دیگر ممالک کے وزراء خارجہ سے متعدد مرتبہ رابطے کئے اور چین کے دورے کے دوران بھی معاملات کی نگرانی کی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی کلیدی کردار ادا کیا اور پاکستان جنگ بندی کیلئے مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان دیگر ممالک کی طرح اس جنگ سے متاثر ہو رہا ہے اور گزشتہ دو سال میں ملکی معیشت کو مستحکم بنانے کیلئے مل کر کاوشیں کی گئی ہیں تاہم جنگ کی وجہ سے معیشت پر شدید دباؤ ہے ۔ کفایت شعاری مہم میں تعاون پر صدرآصف علی زرداری اور بلاول بھٹو سے اظہار تشکرکیا۔وزیراعظم نے کہا کہ دو بحری جہاز آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزر چکے ہیں اور مزید 20 جہازوں کو بھی اس سے گزارنے کا انتظام کیا جا رہا ہے ۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود محنتی کسانوں، مزدوروں اور دکانداروں نے اس بوجھ کو برداشت کیا۔
انہوں نے کہاوفاقی حکومت نے کابینہ کے ارکان کی دو ماہ کی تنخواہیں معطل کیں، تیل کی کھپت میں 50 فیصد کمی کی گئی اور پارلیمنٹ کے ارکان نے بھی اس میں حصہ ڈالا۔ وزیراعظم نے کہا کہ وفاق نے تین ہفتوں میں 129 ارب روپے فراہم کئے ، پی ایس ڈی پی میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی اور تمام اخراجات وفاق نے برداشت کئے ، اب وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر تعاون کریں اور کفایت شعاری مہم کو عملی شکل دیں۔ عام آدمی اور غریب طبقے کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہئے ، اشرافیہ کو قربانی دینی ہوگی اور غیر ضروری منصوبے روک کر فنڈز جمع کئے جائیں تاکہ زرعی شعبے ، گندم کی کٹائی، فصلوں کی بوائی اور پبلک و گڈز ٹرانسپورٹ کے تحفظ پر خرچ کئے جا سکیں۔