کراچی میں بڑا سرمایہ آنیوالا، پیپلزپارٹی سے جان چھڑانا ہوگی : حافظ نعیم

کراچی میں بڑا سرمایہ آنیوالا، پیپلزپارٹی سے جان چھڑانا ہوگی : حافظ نعیم

پی پی کی موجودگی میں کراچی ترقی نہیں کرسکتا، بلاول بھٹو زرداری میجک شو بند کریں، وسائل و مینڈیٹ کا احترام کیا جائے عالم اسلام کے حکمران کب امریکا و اسرائیل کیخلاف اقدامات کرینگے ، ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار

کراچی (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ خطے کی موجودہ صورتحال میں کراچی میں بڑی سرمایہ کاری آنے کا امکان ہے ، تاہم پیپلز پارٹی کی موجودگی میں شہر ترقی نہیں کرسکتا، وقت آگیا ہے کہ اس سے جان چھڑائی جائے ۔ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی کو تباہ کرنا ایک بین الاقوامی ایجنڈا تھا، شہر کو پسماندہ رکھا گیا جبکہ دیگر شہروں کو ترقی دی گئی۔ حالیہ بارشوں نے ایک بار پھر سندھ حکومت کی کارکردگی کو بے نقاب کردیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کے ایم سی میں قبضہ میئر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کارروائی تیز کی جائے گی، کیونکہ کرپشن اور بدانتظامی کے باعث شہر بدحالی کا شکار ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیاسی عمل کو مکمل ہونے دیا جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی موجودگی میں کراچی کی ترقی ممکن نہیں، جبکہ بلاول بھٹو زرداری کو نمائشی اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے وسائل اور عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے ۔بین الاقوامی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اشتعال انگیز بیانات عالمی امن کیلئے خطرہ بن چکے ہیں، عالم اسلام کے حکمرانوں کو امریکا اور اسرائیل کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو خودمختار خارجہ پالیسی اپنانا ہوگی، ایران کے ساتھ تجارت بڑھائی جائے اور گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل کیا جائے ۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کو ترکیہ اور ایران تک وسعت دینے کی بھی ضرورت ہے ۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر کے بعد میں کمی کے ذریعے عوام کو دھوکا دیا، پٹرولیم لیوی ختم اور آئی پی پیز معاہدوں پر نظرثانی کی جائے ۔تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام کو متحد ہو کر ایسی قیادت کا انتخاب کرنا ہوگا جو مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں