ڈار کاسعودیہ،ترکیہ، بحرین، ناروے مصر کے وزرائے خارجہ سے رابطہ

ڈار کاسعودیہ،ترکیہ، بحرین، ناروے  مصر کے وزرائے خارجہ سے رابطہ

اسلام آباد(وقائع نگار،اپنے رپورٹرسے) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سعودی عرب، ترکیہ ، بحرین، ناروے ،مصر اورمراکش کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے میں خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

 سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے گفتگومیں دونوں رہنماؤں نے خطے کی مجموعی صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے پاکستان کی جانب سے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے جاری سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا ،دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ علاقائی چیلنجز کے تناظر میں باہمی رابطے اور مشاورت کو جاری رکھنا نہایت ضروری ہے ، تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے ۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال اور ابھرتی ہوئی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ بحرین کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی سے گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں حالیہ پیشرفت پر تشویش کا اظہار کیا۔ فریقین نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیرِ غور امور پر جاری مشاورت پر تبادلہ خیال کیااور امن و استحکام برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

دونوں رہنماؤں نے رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔ناروے کے وزیرِ خارجہ ایسپن بارتھ ایڈی نے ٹیلی فونک گفتگو میں خطے میں امن و استحکام کے لئے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور مکالمے کے فروغ کو سراہا اور اس کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی سے ٹیلیفون پر گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے کشیدگی میں کمی اور مسائل کے حل کے لئے بامعنی مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں دونوں ممالک قریبی رابطہ برقرار رکھیں گے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے رات گئے مراکش کے وزیرِ خارجہ ناصر بوریطہ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے امور پر رابطے جاری رکھنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔ علاوہ ازیں سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے پاکستان خطے میں بڑھتی کشیدگی کے خاتمے کے لیے بھرپور سفارتی کردار ادا کر رہا ہے تاہم حالیہ پیش رفت نے امن کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے ، عین اس وقت جب دونوں فریقین مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے قریب تھے اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا، جس کے بعد ایران نے سعودی عرب کے شہر جبیل میں آئل تنصیبات کو نشانہ بنایا، اس صورتحال نے امن عمل کو شدید نقصان پہنچایا۔

اسحاق ڈار نے کہا کل رات سے قبل میں بہت پرامید تھا مگر حالیہ خطرناک پیش رفت نے حالات کو ایک بار پھر کشیدہ بنا دیا ہے ۔وزیر خارجہ نے بتایاپاکستان کو کسی تمغے یا کریڈٹ کی خواہش نہیں، بلکہ مقصد صرف خطے میں امن کا قیام ہے ۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس حوالے سے بے پناہ کوششیں کیں جبکہ میں نے خود بھی بطور وزیر خارجہ بھرپور کردار ادا کیا۔پاکستان نے امریکا کی 15 نکاتی شرائط ایران تک پہنچائیں جبکہ ایران کی 5 نکاتی تجاویز امریکہ کو منتقل کیں، جس کے نتیجے میں جنگ بندی کے امکانات روشن ہوئے اور پیش رفت بھی سامنے آئی۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ایک منفرد مقام دیا ہے اور پاکستان اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے خطے میں امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے رات گئے مراکش کے وزیرِ خارجہ ناصر بوریطہ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر خطے میں جاری تازہ صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے امور پر رابطے جاری رکھنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں