ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان،پاکستان ثالث نہ ہوتا تو اسرائیل پر حملہ کر دیتے:ترک صدر
مذاکرات اچھے رہے ، ایران پھر میز پر آئیگا اوروہ دیگا جو ہم چاہتے ہیں ،نیٹو کی آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے مددکی پیشکش،چین نے ایران کی فوجی مددکی تو50فیصد ٹیرف عائد کرینگے :امریکی صدر لبنان اور ایران پر کوئی بھی حملہ ترکیہ پر حملہ تصور کیا جائے گا،مذاکرات ناکام ہوئے تو پھر اسرائیل پر حملہ ہمارا فرض ہے :طیب اردوان،اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہوکو ہٹلر قرار دیدیا
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوزایجنسیاں) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا جلد ہی ان تمام جہازوں کی ناکہ بندی شروع کرے گا جو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے کی کوشش کریں گے ۔ اسلام آباد میں مذاکرات اچھے رہے ، زیادہ تر نکات پر اتفاق ہو گیا لیکن وہ واحد نکتہ جو سب سے اہم تھا یعنی جوہری معاملہ، اس پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ مذاکرات وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے ذریعے ممکن ہوئے ۔ ایران ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر آئے گا اور ہمیں وہ سب کچھ دے گا جو ہم چاہتے ہیں۔نیٹو نے آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے مددکی پیشکش کی ہے ، ہم پر یاجہازوں پر حملہ کرنیوالے کوتباہ کر دینگے ،چین نے ایران کی فوجی مدد کی تو 50فیصد ٹیرف عائدکر ینگے ۔
ہم آبنائے ہرمز کو ہر قیمت پر کھو لیں گے ،مناسب وقت پر ہماری فوج ایران میں جو کچھ بچا ہے ختم کر دیگی۔سوشل میڈیا پر جاری ایک طویل بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت کے معاہدے تک کسی بھی وقت پہنچا جا سکتا ہے لیکن ایران نے اس کی اجازت نہیں دی اور صرف یہ کہہ کر رکاوٹ ڈالی کہ شاید کہیں کوئی بارودی سرنگ ہو، جس کے بارے میں صرف ایران کو علم ہے ۔ ٹرمپ نے کہا انہوں نے امریکی بحریہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ بین الاقوامی پانیوں میں ہر اس جہاز کو تلاش کرے اور روکے جس نے ایران کو ٹول ادا کیا ہو،امریکی بحریہ جلد ہی ایرانیوں کی بچھائی ہوئی بارودی سرنگوں کو تباہ کرنا شروع کرے گی۔
جو بھی غیر قانونی ٹول ادا کرے گا اسے کھلے سمندر میں محفوظ راستہ نہیں ملے گا،جبکہ کوئی بھی ایرانی جو ہم پر یا پرامن جہازوں پر حملہ کرے گا، اسے تباہ کر دیا جائے گا۔ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی جلد شروع ہونے والی ہے ۔ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ کیا تھا لیکن جان بوجھ کر اس نے یہ وعدہ پورا نہیں کیا۔ اس صورتحال نے دنیا بھر میں کئی ممالک اور لوگوں کیلئے بے چینی، خلل اور تکلیف پیدا کی، ایران کو چاہئے کہ جتنی جلدی ممکن ہو بین الاقوامی آبی راستے کو کھولنے کا عمل شروع کرے ۔انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ انہیں نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور مذاکرات کار جیرڈ کشنر نے مکمل طور پر بریف کیا ہے ۔ٹرمپ نے پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ان کی ٹیم کی کوششوں کی بھی تعریف کرتے ہوئے کہا وہ غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل شخصیات ہیں، میں ہمیشہ ان کی قدر کرتا ہوں۔ٹرمپ کاکہناتھا اگرچہ کئی نکات پر اتفاق ہو گیا تھا جو فوجی کارروائی جاری رکھنے سے بہتر تھے لیکن یہ سب نکات اس حقیقت کے مقابلے میں بے معنی ہیں کہ جوہری طاقت ایسے غیر مستحکم، مشکل اور غیر متوقع لوگوں کے ہاتھ میں نہیں دی جا سکتی۔
ایران کی بحریہ اور فضائیہ ختم ہوچکی، طیارہ شکن نظام اور راڈار ناکارہ ہوگئے ، خامنہ ای اورایران کے زیادہ تر رہنما دنیا میں نہیں رہے ، یہ سب ایران کی جوہری خواہش کی وجہ سے ہوا۔ ایران کو بھتہ لینے کے غیرقانونی اقدام سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ہم پوری طرح تیار اور مسلح ہیں، مناسب وقت پر ہماری فوج ایران میں جو کچھ بچا ہے ختم کر دے گی۔بعدازاں فاکس نیوز کو انٹرو یو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا نیٹو نے آبنائے ہرمز کو کھلوانے میں مدد کی پیشکش کی ہے ۔ امریکا نیٹو سے بہت مایوس تھا، لیکن اب وہ آنا چاہتے ہیں اور آبنائے ہرمز کو کھلوانے میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔ٹرمپ نے کہا اس اہم آبی گزر گاہ کو کھلوانے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا، اس لئے ہم آبنائے ہرمز کو ہر قیمت پر کھولیں گے ،امریکا وہاں مائن سویپرز بھیج رہا ہے ۔
برطانیہ سمیت کئی ممالک بھی ایسا کر ینگے ۔امریکی صدر نے کہا اگر چین نے مشرق وسطیٰ کی جنگ میں ایران کو فوجی مدد فراہم کی تو اس کی مصنوعات پر امریکا میں 50 فیصد نئے محصولات عائد کئے جائیں گے ۔ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ہونے والے امریکا ،ایران مذاکرات کیلئے پاکستانی قیادت کی تعریف کی اور کہاکہ ایران، امریکا مذاکرات وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مؤثر قیادت کے ذریعے ممکن ہوئے ۔امریکی صدر نے پاکستانی قیادت کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے ان کی کاوشوں کو سراہا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر آئے گا اور ہمیں وہ سب کچھ دے گا جو ہم چاہتے ہیں۔ان کاکہناتھا ایران مذاکرات کی میز سے اٹھا نہیں ہے ،انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ موجودہ تنازع کے بعد تیل اور گیس کی قیمتیں بالآخر کم ہو جائیں گی۔
انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوزایجنسیاں)ترک صدر طیب اردوان نے کہا ہے کہ لبنان اور ایران پر کوئی بھی حملہ ترکیہ پر حملہ تصور کیا جائے گا،مذاکرات ناکام ہوئے تو پھر اسرائیل پر حملہ ہمارا فرض ہے ،اگر پاکستان ثالثی نہ کر رہا ہوتاتو ہم کب کا یہ قدم اٹھا چکے ہوتے ۔ طیب اردوان کا مشرق وسطٰی کی صورتحال اور جاری کشیدگی پر اپنے بیان میں کہنا تھا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی جنگی صورتِ حال انتہائی تشویشناک ہے ،اسرائیل آگ سے کھیلنا بند کرے ورنہ عبرتناک سبق سکھائیں گے ، اسرائیل امن عمل کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے سے باز رہے ، لبنان اور ایران پر کوئی بھی حملہ ترکیہ پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ترک صدر کا کہنا تھا کہ علاقائی امن کو سبوتاژ کرنے کی قیمت اسرائیل کو چکانا پڑے گی، مذاکرات ناکام ہوئے تو پھر اسرائیل پر حملہ ہمارا فرض ہے ، جس طرح ہم کار اباخ اور لیبیا میں داخل ہوئے ، اسرائیل میں بھی ایسا ہی کریں گے ۔
طیب اردوان نے کہا کہ اگر پاکستان ثالثی نہ کر رہا ہوتا تو ہم کب کا یہ قدم اٹھا چکے ہوتے ، نیتن یاہو خون اور نفرت میں اندھے ہو چکے ہیں، اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات درج کریں گے ۔اُن کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے دنوں میں بھی اسرائیل نے سیکڑوں نہتے بے گناہ لبنانی شہریوں کا خون بہایا ہے ۔ فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فرق نہیں ہے ،صرف فلسطینیوں کیلئے سزائے موت کا نفاذ قانون کو نسل پرست فاشزم کے آلہ کار میں بدل دیتا ہے ۔ غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں بے رحمی سے مارے جانے والے 72ہزارشہریوں میں سے اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے ۔ترک صدر نے نیتن یاہو کو ہٹلر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کئے ۔طیب اردوان نے مذاکرات ناکام ہونے پر حملے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے ۔