مذاکرات کا ہونا ہی کامیابی،پاکستان کا قد کاٹھ بڑھا :ماہرین
اس نوعیت کے مذاکرات وقت لیتے ہیں ،ناکام نہیں کہا جاسکتا:فاروق حسنات مذاکراتی عمل جاری رہنے کیلئے امریکا اور ایران نے کھڑکی کھلی رکھی:مشاہدحسین اس وقت کوئی ملک نہیں جو مذاکرات کیلئے پاکستان کی جگہ لے سکے :زاہدحسین سفارتکاری میراتھون ریس:طلعت حسین،مزید بات ہوسکتی :مائیکل کگلمین
اسلا م آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان نے اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ رہنے کے باوجود اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا۔دونوں ممالک کے درمیان جنگ رکوانے اور اسلام آباد میں مذاکرات کی میزسجانے کو ہی بہت سے حلقے پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں، جس سے پاکستان کا عالمی سطح پر قد کاٹھ بڑھا ہے لیکن حتمی معاہدہ نہ ہونے پراسلام آباد میں مایوسی بھی ہے ۔پاکستان کو اسلام آباد مذاکرات سے کیا حاصل ہوا اور کیا یہ اب بھی فریقین کے درمیان امن معاہدہ کروانے کی صلاحیت رکھتا ہے ؟ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو پھر پاکستان کیلئے آگے کا کیا راستہ کیا ہو گا؟ ،اس حوالے سے مختلف ماہرین نے رائے کا اظہار کیاہے ۔مشرقِ وسطیٰ اُمور کے ماہر اور پنجاب یونیورسٹی پولیٹیکل سائنس ڈیپارٹمنٹ کے سابق سربراہ ڈاکٹر فاروق حسنات کہتے ہیں کہ ان مذاکرات کو بے نتیجہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس نوعیت کے مذاکرات بہت وقت لیتے ہیں۔بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ فریقین نے یہ نہیں کہا کہ یہ مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں، بلکہ دونوں اپنی کچھ شرائط پر سمجھوتہ نہیں کر پا رہے ۔ڈاکٹر فاروق حسنات نے کہاپاکستان نے اس سارے تنازع میں خود کو ایک غیر جانب دار فریق کے طور پر ثابت کیا،یہی وجہ ہے کہ دونوں فریقوں نے اسلام آباد آنے پر رضا مندی ظاہر کی۔ گو کہ معاہدہ نہیں ہوا لیکن دونوں فریق یہ تصدیق کر رہے ہیں کہ کچھ معاملات میں پیش رفت ہوئی ہے ۔
پاکستان کی یہی کامیابی بہت بڑی ہے کہ اس نے دو ایسے فریقوں کو آمنے سامنے بٹھا دیا، جنہوں نے 1979 کے بعد براہ راست مذاکرات نہیں کئے تھے ۔ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے تو پاکستان کو مشکل صورتحال کا سامنا ہو گا،امریکانے ایران پر دوبارہ حملے شروع کئے تو پھر ایران بھی خطے میں امریکا کے اتحادی ممالک پر حملے کرے گا اورسعودی عرب پر حملوں سے پاکستان پر دباؤ لازمی بڑھے گااورممکن ہے کہ یمن کے حوثی سعودی عرب پر حملے شروع کر دیں،اگر ایسا ہوا تو پاکستان کی فوج یمن کے حوثی باغیوں کی کارروائیاں روکے گی، لہٰذا پاکستان کی لڑائی براہ راست ایران سے نہیں ہو گی اور اگر پاکستان کو کسی مرحلے میں فریق بننا پڑا تو اس پر پارلیمان کو اعتماد میں لے کر فیصلے کرنے چاہئیں۔سینئرسیاست دان اور سابق سینیٹر مشاہد حسین سید کہتے ہیں کہ ان تاریخی مذاکراتی عمل کے جاری رہنے کیلئے امریکا اور ایران نے ایک کھڑکی کھلی رکھی ہے اور یہ پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں ہی ہوا ہے ۔
اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی تین گنا اہمیت ہے ،21 گھنٹے تک مذاکرات جاری رہنے کا یہ مطلب ہے کہ فریقین نے بہت تفصیل سے بات چیت کی ہے اور اس میں دونوں ممالک کے تکنیکی ماہرین بھی شامل تھے ۔ فریقین کی جانب سے پاکستان کے کردار کو مثبت قرار دینا، اس بات کی عکاسی ہے کہ پاکستان نے امن معاہدے کی کوششوں کی کتنی سنجیدہ کوششیں کیں۔اب بال امریکا کے کورٹ میں ہے اور اب یہ صدر ٹرمپ پر منحصر ہے کہ وہ خود کو ایران جنگ کی دلدل سے نکالتے ہیں یا نیتن یاہو جیسے جنگی جنون میں مبتلا رہنماؤں کی باتوں میں آتے ہیں۔ سینئرصحافی اور تجزیہ کار زاہد حسین نے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات میں کوئی بریک تھرو نہیں ہوا تاہم یہ مذاکرات ختم بھی نہیں ہوئے جو ایک اچھی علامت ہے ۔ پاکستان کے کردار جس کی دونوں فریق تعریف کر رہے ہیں، مذاکرات کے بعد پاکستان کی اہمیت میں اور بھی اضافہ ہوا ہے ، کیونکہ پاکستان 21 گھنٹے تک جاری رہنے والے پیچیدہ مذاکرات میں شامل رہا ہے اور مذاکرات کے کسی اگلے دور میں دونوں فریق پاکستان سے ہی رجوع کریں گے ۔اس وقت کوئی ایسا ملک نہیں ہے ، جو پاکستان کی جگہ لے سکے ۔ایران اور پاکستان کے تعلقات جس نوعیت کے ہو چکے ہیں، اس میں ایران بھی ایسا کوئی قدم نہیں اُٹھائے گا جو پاکستان کو اس تنازع میں شامل ہونے پر مجبور کرے ۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار طلعت حسین کہتے ہیں کہ پاکستان نے اُس وقت قدم اُٹھایا جب دُنیا کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ایکس پر پوسٹ میں طلعت حسین کا کہنا تھا کہ افراتفری کے دوران ایک جنگ کو روک کر پاکستان نے ثالث کے طور پر اپنے کردار کو عالمی سطح پر منوایا اور ثابت کیا کہ پائیدار امن صرف بات چیت کے ذریعے آتا ہے ۔پاکستان کی یہی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ اس نے 28 فروری کو امریکا اور ایران کے درمیان ٹوٹنے والا مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ جوڑ دیا، سفارتکاری ایک میراتھون ریس کی طرح ہے ۔اٹلانٹک کونسل میں جنوبی ایشیا کے سینئر فیلو مائیکل کگلمین کہتے ہیں کہ امریکا اندرونی سیاسی حالات کی وجہ سے ایک ایسا معاہدہ چاہتا تھا جس کے ذریعے وہ اس جنگ سے نکل سکے ، نائب صدر کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد بھیجنا امریکی عزم کا اظہار تھا ۔نائب صدر وینس کی نیوز کانفرنس کے باوجود یہ سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا، ابھی مزید بات چیت ہو سکتی ہے ، لیکن یہ واضح نہیں کہ یہ مذاکرات پاکستان میں ہوں گے یا کسی اور جگہ پر ہونگے ۔