ایف آئی اے کارکردگی دکھاتا تو نیب نہ بنتا : وزیر داخلہ
شہدا کے اہلخانہ کیلئے پلاٹس کا اعلان، سروس سٹرکچر بہتر بنانے کی یقین دہانی
اسلام آباد (دنیا نیوز، اے پی پی)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اگر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے ) مؤثر کارکردگی دکھاتا تو قومی احتساب بیورو (نیب) بنانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ایف آئی اے افسران کی خصوصی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ادارے کو جدید اور فعال بنایا جائے گا، کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی اور کسی بھی بدعنوان عنصر کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ 2008 کی نفری کے ساتھ موجودہ چیلنجز سے نمٹنا ممکن نہیں، اس لیے ادارے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 31 دسمبر 2026 تک ایف آئی اے کو مکمل طور پر متحرک اور جدید ادارہ بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ نے اس موقع پر ایف آئی اے کے شہدا کے اہلخانہ کو پلاٹس دینے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے افسران کے مسائل سننے کے بعد یقین دہانی کرائی کہ سروس سٹرکچر بہتر بنایا جائے گا اور افسران کی بروقت ترقیوں کو یقینی بنایا جائے گا۔محسن نقوی کا مزید کہنا تھا کہ بہت سے کام جو ایف آئی اے کے دائرہ کار میں آتے تھے ، وہ نیب انجام دے رہا ہے ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماضی میں ادارے پر مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ اب ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے تمام رکاوٹیں دور کی جائیں گی۔