متنازعہ دفعہ 55(ب)کو ختم کرنے کی تجویزکا ڈرافٹ تیار

 متنازعہ دفعہ 55(ب)کو ختم کرنے کی تجویزکا ڈرافٹ تیار

مذکورہ شق کے تحت پولیس کسی بھی مشکوک شخص کو گرفتار کر سکتی ہے ڈرافٹ میں کارروائی صرف دفعہ 55(ج)تک محدود رکھنے کی تجویز:ذرائع

لاہور(سیاسی نمائندہ)پنجاب اسمبلی میں نوآبادیاتی دور کے ضابطہ فوجداری 1898 ئمیں اہم ترامیم کی تیاری مکمل کر لی گئی ۔ اسمبلی ذرائع کے مطابق سپیکر پنجاب اسمبلی کی ہدایت پر قائمہ کمیٹی برائے قانونی اصلاحات نے متنازعہ دفعہ 55(ب)کو ختم کرنے کی تجویز پر مبنی ڈرافٹ تیار کر لیا ، مذکورہ شق کے تحت پولیس کو کسی بھی مشکوک شخص کو تسلی بخش جواب نہ دینے کی صورت میں گرفتار کرنے کے اختیارات حاصل ہیں، ڈرافٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ کارروائی کو صرف دفعہ 55(ج)تک محدود رکھا جائے جس کے تحت صرف ریکارڈ یافتہ یا عادی مجرموں کے خلاف ہی قانونی کارروائی ممکن ہو،گزشتہ اجلاس میں کمیٹی نے دفعہ 55(ب)پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کے تحت کارروائیوں کا مکمل ریکارڈ طلب کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق پولیس رپورٹ ملنے کے بعد یہ ڈرافٹ دوبارہ کمیٹی میں پیش کیا جائے گا ، مجوزہ ترامیم کا بنیادی مقصد پولیس اختیارات کو قانون کے دائرے میں لانا اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں