خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بی مائنس پربرقرار، معاشی آؤٹ لک مستحکم
کراچی(محمد حمزہ گیلانی)بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی فچ نے پاکستان پر اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ملک کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بی مائنس پر برقرار رکھی اور معاشی آؤٹ لک کو مستحکم قرار دیا ہے، جو حالیہ معاشی کارکردگی میں بہتری کی عکاسی ہے۔
فچ کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مالیاتی نظم و ضبط اور مجموعی معاشی استحکام میں پیش رفت دیکھنے میں آئی، جبکہ آئی ایم ایف پروگرام بدستور معاشی اصلاحات کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے ۔ عالمی ریٹنگ ادارے نے رپورٹ میں کہا ہے کہ آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو 1.2ارب ڈالر کی قسط موصول ہونے کاامکان ہے ، جس سے زرمبادلہ ذخائر کو سہارا ملے گا، فچ کے مطابق ملکی فارن ایکسچینج ریزروز بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کے باوجود ایک حد تک استحکام فراہم کرنے کی پوزیشن میں ہیں، تاہم عالمی سطح پر بالخصوص مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث توانائی کے شعبے میں خطرات بدستور موجود ہیں،جو پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔
فچ نے پیشگوئی کی ہے کہ مالی سال 2026 میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 7.9 فیصد تک پہنچ سکتی ہے جبکہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں کمی کے بعدکاروباری اعتماد میں بہتری دیکھی جا رہی ہے ۔ دوسری جانب معاشی نمو کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 3.1 فیصد رہنے کی توقع ہے جو بتدریج بحالی کی نشاندہی کرتی ہے ، فچ رپورٹ کے مطابق ملکی معیشت پر بیرونی قرضوں اور ادائیگیوں کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے ، جہاں مجموعی ادائیگیاں بڑھ کر 12.8 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، مالی خسارہ جی ڈی پی کے تقریباً 5.3 فیصد کے برابر رہنے کا امکان ہے ، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ دوبارہ 1.1 فیصد خسارے میں جانے کی پیشگوئی کی گئی، مجموعی طور پر فچ کی رپورٹ پاکستان کی معیشت میں استحکام کے آثار ظاہر کرتی ہے ، تاہم بیرونی خطرات، مہنگائی اور قرضوں کا دباؤ اب بھی اہم چیلنجز کے طور پر موجود ہیں، جن سے نمٹنے کیلئے پالیسی تسلسل اور اصلاحات ناگزیر ہونگی۔