ایف بی آر کی نااہلی، 5457ارب کے ٹیکس کیسز عدالتوں میں التوا کا شکار

ایف بی آر کی نااہلی، 5457ارب کے ٹیکس کیسز عدالتوں میں التوا کا شکار

سپریم کورٹ 169ارب ، اسلام آباد ہائی کورٹ482ارب،لاہور ہائی کورٹ میں 963ارب سے زائد کی رقم پھنسی ہوئی ملک کی مختلف عدالتوں میں 11ہزار 938،اپیلٹ ٹربیونلز ان لینڈ ریونیو میں 21ہزار 767سے زائد کیسز زیر التوا ہیں دو برس میں زیرالتوا ٹیکس کیسز کی شرح میں 30فیصداضافہ ہوا،وزیراعظم نے جلد سماعت کیلئے لائحہ عمل طلب کر لیا

اسلام آباد (مدثر علی رانا) ایف بی آر کی نا اہلی کے باعث ٹیکس مقدمات کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے ، جبکہ گزشتہ تقریباً دو برسوں کے دوران مختلف عدالتوں اور اپیلٹ ٹربیونلز میں زیرالتوا ٹیکس کیسز کے حجم میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق 2024 کے دوران مختلف عدالتوں اور اپیلٹ ٹربیونلز میں زیرالتوا ٹیکس کیسز میں 3760 ارب روپے کی رقم پھنسی ہوئی تھی جو اب بڑھ کر 5457 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے ۔ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف عدالتوں اور اپیلٹ ٹربیونلز ان لینڈ ریونیو میں زیرالتوا ٹیکس کیسز کی صورتحال سے آگاہ کیا جس پر وزیراعظم نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے معاشی ٹیم سے مختلف فورمز پر ٹیکس کیسز کی جلد سماعت کے لیے لائحہ عمل طلب کر لیا ۔اعداد و شمار کے مطابق سپریم کورٹ میں 3277 کیسز میں 169 ارب روپے سے زائد، اسلام آباد ہائی کورٹ میں 1979 کیسز میں 482 ارب روپے زیرالتوا ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ میں سب سے زیادہ 7490 کیسز زیرسماعت ہیں جن میں تقریباً 963 ارب روپے سے زائد کی رقم پھنسی ہوئی ہے ۔ 2024 کے دوران لاہور ہائی کورٹ میں 4670 کیسز میں تقریباً 180 ارب روپے سے زائد رقم زیرالتوا تھی۔اسی طرح پشاور ہائی کورٹ میں 27 ارب روپے کے 241 کیسز زیرالتوا ہیں جبکہ 2024 کے دوران وہاں تقریباً 8 ارب روپے کے 400 کیسز زیرسماعت تھے ۔ بلوچستان ہائی کورٹ میں 6 ارب روپے کے 37 کیسز جبکہ سندھ ہائی کورٹ میں 480 ارب روپے کے 2081 کیسز زیرسماعت ہیں۔ذرائع کے مطابق مختلف عدالتوں میں مجموعی طور پر 11 ہزار 938 ٹیکس کیسز زیرالتوا ہیں جن میں تقریباً 1958 ارب روپے کی رقم پھنسی ہوئی ہے ، جبکہ دو سال قبل یہ رقم تقریباً 750 ارب روپے تھی۔اسی طرح اپیلٹ ٹربیونلز ان لینڈ ریونیو میں زیرالتوا ٹیکس کیسز کی تعداد 21 ہزار 767 سے زائد ہے جہاں 3330 ارب روپے سے زائد کی رقم پھنسی ہوئی ہے ۔

مزید یہ کہ 2022 کے اختتام تک اپیلٹ ٹربیونلز ان لینڈ ریونیو میں زیرالتوا ٹیکس کیسز کی تعداد 63 ہزار 655 تھی جن میں تقریباً 1460 ارب روپے سے زائد رقم شامل تھی جو 2024 میں بڑھ کر 2235 ارب روپے تک تجاوز کر گئی تھی۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے مختلف عدالتوں اور اپیلٹ ٹربیونلز میں زیرالتوا ٹیکس کیسز کے بڑھتے حجم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں جلد نمٹانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 15 ہزار 600 ارب روپے ٹیکس ہدف مختص کرنے پر بات چیت ہوئی ہے ، تاہم آئندہ مالی سال کے ٹیکس ہدف پر حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے ۔ آئی ایم ایف نے ایف بی آر سے زیرالتوا ٹیکس مقدمات کے حل سے متعلق رپورٹ بھی طلب کی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں