افغانستان میں 20 دہشتگرد تنظیمیں سرگرم ، خطے کی سلامتی کو خطرات

افغانستان میں 20 دہشتگرد تنظیمیں  سرگرم ، خطے کی سلامتی کو خطرات

اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر) افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد مختلف دہشتگرد تنظیموں کی سرگرمیوں میں اضافے سے خطے خصوصاً پڑوسی ممالک کی سلامتی کو لاحق خطرات میں اضافہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔

 یورپی جریدے ماڈرن ڈپلومیسی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں شدت پسند گروہوں کی موجودگی پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک کی سلامتی کے لیے واضح خطرہ بن چکی ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا کہ شدت پسند عناصر کی سرگرمیاں نہ صرف افغانستان کے داخلی استحکام بلکہ علاقائی امن کے لیے بھی بڑا چیلنج ہیں۔ مشرقی افغانستان کے سرحدی صوبوں کنڑ اور ننگرہار میں فتنہ الخوارج سے وابستہ عناصر کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی ہے ۔رپورٹ کے مطابق افغانستان میں فتنہ الخوارج اور القاعدہ سمیت بیس سے زائد علاقائی اور بین الاقوامی دہشتگرد تنظیمیں سرگرم ہیں جو مختلف نوعیت کی کارروائیوں میں ملوث رہی ہیں۔ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض مسلح گروہوں کو مبینہ طور پر سہولت کاری فراہم کیے جانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ گروہ افغانستان کو محفوظ پناہ گاہ اور آپریشنل بیس کے طور پر استعمال کرتے ہوئے پڑوسی ممالک کے لیے خطرات بڑھا رہے ہیں جبکہ پاکستان کو ان خطرات کے حوالے سے زیادہ حساس قرار دیا گیا ۔ مزید برآں انسانی حقوق کی صورتحال اور سخت گیر پالیسیوں کے باعث طالبان حکومت کو عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا بھی ہے ۔ رپورٹ میں خطے میں پائیدار امن کے لیے دہشتگردی کے نیٹ ورکس کے خلاف مشترکہ اور مؤثر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں