محکمانہ سزاؤں کے خلاف اپیل کا نیا نظام نافذ 2020 کے ڈسپلن رولز نافذ

 محکمانہ سزاؤں کے خلاف اپیل کا نیا نظام نافذ 2020 کے ڈسپلن رولز نافذ

نئے رولز کے تحت اپیل سزا دینے والی اتھارٹی سے ایک درجہ سینئر افسر کو دائر ہوگی، وزیراعظم نے منظوری دے دی اپیل کی سماعت آسان بنانے کیلئے وفاقی حکومت کی جگہ اپیلٹ اتھارٹی کے الفاظ شامل، رولز 1973کا حوالہ بھی ختم

اسلام آباد (ایس ایم زمان) وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے محکمانہ اپیل قانون 1973 میں ترامیم کر دیں، جس کے تحت محکمانہ سزاؤں کے خلاف اپیلوں کا طریقہ کار تبدیل کر کے اسے 2020 کے نئے ڈسپلن رولز لاگو کر دیئے گئے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے وزیراعظم کی منظوری سے سول سرونٹس (اپیل) رولز 1973 میں ترمیم کے احکامات جاری کر دیئے ۔ ترامیم کے تحت اب سزا کے خلاف اپیل اس افسر یا اتھارٹی کے پاس جائے گی جو سزا سنانے والی اتھارٹی سے ایک درجہ سینئر یا اس سے اوپر عہدے پر ہوگی۔ نئے ضوابط میں \\\'گورنمنٹ سرونٹس رولز 1973\\\' کا حوالہ ختم اور \\\'سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020\\\' کو شامل کیا گیا ہے ۔ حکومت نے اپیلوں کی سماعت کا عمل آسان بنانے کے لیے رولز میں جہاں \\\'وفاقی حکومت\\\' کا لفظ درج تھا وہاں \\\'متعلقہ اپیلٹ اتھارٹی\\\' کے الفاظ شامل کیے ہیں جس کا مقصد اپیلوں کے فیصلے وفاقی حکومت کے بجائے براہ راست متعلقہ مجاز اتھارٹی کی سطح پر کرنا ہے ۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں