جنگ بندی میں توسیع، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر اعظم شہباز شریف کے کہنے پر حملے روک رہاہوں : ٹرمپ

جنگ بندی میں توسیع، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر اعظم شہباز شریف کے کہنے پر حملے روک رہاہوں : ٹرمپ

ایرانی حکومت تقسیم کا شکار،انکی تجویز آنے ، مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچنے تک جنگ بند، ناکہ بندی جاری رہے گی،عظیم معاہدہ کی امید،ایران 8خواتین رہا کرے ،تہران کوچین کا بھیجا ‘‘تحفہ ’’روک دیا،امارات کیساتھ کرنسی تبادلہ زیر غور:امریکی صدر دھمیکوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں،جنگ بندی میں توسیع یکطرفہ:ایران، امریکی فوج نے ایک اور جہاز روک لیا، ایران کو ہتھیاروں کے حصول میں مدد فراہم کرنے پر 14افراد ،کمپنیوں پر نئی پابندیاں، وینس کا دورہ اسلام آباد ملتوی

اسلام آباد،تہران، واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)ایران امریکا جنگ بندی ختم ہونے سے قریباً چار گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کردیا، ٹرمپ نے کہا فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کے کہنے پر حملے روک رہا ہوں ،سوشل میڈیا ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا اس بنیاد پر کہ ایران کی حکومت شدید اندرونی تقسیم کا شکار ہے جو کہ غیر متوقع نہیں، پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر ہم سے کہا گیا ہے کہ ہم ایران کے خلاف اپنے حملے کو اس وقت تک مؤخر رکھیں جب تک ان کے رہنما اور نمائندے ایک متفقہ تجویز پیش نہ کر دیں۔لہٰذا میں نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ ناکہ بندی جاری رکھے اور دیگر تمام معاملات میں مکمل طور پر تیار رہے ، اور اسی بنا پر میں جنگ بندی کو اس وقت تک کے لیے بڑھا رہا ہوں جب تک ان کی تجویز پیش نہیں کی جاتی اور مذاکرات کسی نہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے۔

قبل ازیں اپنے انٹرویوز اور سوشل میڈیا پیغامات میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ موجودہ ایرانی رہنما عقل مند ہیں، امریکا بہت بڑا معاہدہ کرنے والا ہے ، ہم ایک ایسی عظیم ڈیل چاہتے ہیں جو امریکا کیلئے قابل قبول ہو اور ایران کو مستقبل میں مدد دے گی،ایران ڈیل کر لیتا ہے تو وہ خود کو بہتر پوزیشن میں لاسکتا ہے ، امریکا کی مذاکراتی پوزیشن بہت مضبوط ہے ، ان کے نمائندے مشرق وسطیٰ کے تنازع کے خاتمے کیلئے پاکستان میں ایران کے ساتھ مذاکرات کی تیاری کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا دو ہفتوں تک جاری جنگ بندی کے دوران امریکا نے خطے میں اپنی فورسز کو مضبوط کیا ہے اور وہ دوبارہ ضرورت پڑنے پر بمباری کرنے کیلئے تیار ہیں۔انہوں نے کہا ایران کے پاس مذاکراتی وفد بھیجنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے ،ٹرمپ نے کہا مجھے لگتا ہے کہ ہمارے درمیان ایک عظیم معاہدہ ہوگا۔

انہوں نے کہا مجھے کم عقل اور غدار لوگوں کی پروا نہیں، ہم نے وینزویلا پر 45 منٹ میں قبضہ کر لیا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں صدر ہوتا تو فوری طور پر ویت نام پر قبضہ کر لیتا، میں صدر ہوتا تو عراق جنگ میں بھی فوری کامیابی حاصل کر لیتا۔ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ایران نے جنگ بندی کے معاہدے کی متعدد بار خلاف ورزی کی ہے ، انہوں نے کہا گزشتہ برس آپریشن مڈ نائٹ ہیمرکے تحت ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے بعد اب وہاں سے یورینیم نکالنا ایک طویل اور مشکل مرحلہ ہو گا۔ٹرمپ نے کہا متحدہ عرب امارات کے ساتھ کرنسی کا تبادلہ زیرغور ہے ، امارات ان غیر معمولی حالات میں ہمارا بہت اچھا اتحادی رہا ہے ۔ تاہم ٹرمپ نے واضح طور پر تسلیم کیا کہ ایک امیر ملک کی مالی معاونت کرنے سے امریکا کے اندر ردعمل ہو سکتا ہے ۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ سعودی عرب اس وقت ہم سے کچھ نہیں مانگ رہا، اُنہوں نے بطور اتحادی سعودی عرب کی تعریف بھی کی۔

ٹرمپ نے کہا وہ لڑ رہے ہیں، وہ ہماری مدد کر رہے ہیں، وہ آبنائے پر ہماری مدد کر رہے ہیں۔ٹرمپ نے ایک بار پھر یورپی اتحادیوں اور نیٹو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو مدد نہیں کر رہے ، وہ نیٹو ممالک ہیں۔ ہمیں ان کی کبھی ضرورت نہیں ہو گی۔ درحقیقت انہیں ہماری ضرورت ہو گی۔ کیونکہ وہ کاغذی شیر ہیں۔ٹرمپ نے کہا ایران امریکا کے ساتھ امن مذاکرات کی کامیابی کے امکانات بہتر بنانے کیلئے آٹھ خواتین کو رہا کرے ، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ انہیں سزائے موت کا سامنا ہے ۔ ٹرمپ نے مزید کہا امریکی افواج نے ایک ایسے بحری جہاز کو روک لیا ہے جو چین کی جانب سے ایران کے لیے \\\"تحفہ\\\" لے کر جا رہا تھا، جبکہ تہران جنگ بندی کے دوران اپنی فوجی ضروریات دوبارہ پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ٹرمپ نے سی این بی سی کو بتایا کہ اس جہاز پر چین کی طرف سے ایک تحفہ موجود تھا جو اچھا نہیں تھا۔ انہوں نے کہا: مجھے اس پر کچھ حیرت ہوئی، اور مزید کہا کہ ان کا خیال تھا کہ ان کے اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان ایک سمجھوتا موجود ہے ۔ایک ہفتہ قبل ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ شی جن پنگ نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ چین ایران کو کوئی اسلحہ فراہم نہیں کرے گا، جو کئی برسوں سے بیجنگ کا قریبی شراکت دار رہا ہے۔

ادھر امریکی فوج نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے دوران ایک اور جہاز روک لیا ،پینٹاگون کے مطابق امریکی فوج نے انڈو پیسفک خطے میں پابندی زدہ ٹینکر ایم ٹی ٹیفانی کو روک کر جانچ کی کارروائی کی، ایکس پر جاری کی گئی ویڈیو میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر کو ایرانی کمپنی سے منسلک تیل بردار جہاز پر اترتا ہوا بھی دکھایا گیا گیا،میرین ٹریفک کے اعداد و شمار کے مطابق خام تیل بردار ٹینکر ٹیفانی کی گنجائش تقریباً تین لاکھ ٹن ہے ، اس ٹینکر پر امریکا کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثوں کے کنٹرول کی جانب سے پابندیاں عائد ہیں اور اس کا تعلق ایک انڈین شپنگ کمپنی سے ہے جس پر ایران سے روابط کے باعث امریکی پابندیاں ہیں۔امریکا نے ایران سے متعلق مزید پابندیاں عائد کر دیں، امریکی محکمہ خزانہ کی ویب سائٹ کے مطابق نئی پابندیاں مجموعی طور پر 14 افراد اور کمپنیوں پر لگائی گئی ہیں جو ایران کو ہتھیار حاصل کرنے میں مدد فراہم کر رہی تھیں۔

محکمہ خزانہ کے مطابق ان پابندیوں کا ہدف ایسے افراد، کمپنیوں اور ہوائی جہازوں کو بنایا گیا ہے جو ایران، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات میں موجود ہیں۔دریں اثنا وائٹ ہائوس کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہِ پاکستان ملتوی ہوگیا ہے ، امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ ایران کا مثبت ردعمل نہ آنے پر نائب صدر کا دورہ پاکستان مؤخر کر دیا گیا تاہم ایران کا مثبت ردعمل آنے پر فیصلہ تبدیل کیا جا سکتا ہے ۔دوسری جانب ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ اگر امریکا دباؤ اور دھمکیوں کی پالیسی ترک کر دے تو ایران پاکستان میں مذاکرات میں شرکت کر سکتا ہے ۔ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے کہا ایران کو دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں،پچھلے دو ہفتے میں ہم نے میدان جنگ میں نئے پتے لانے کی تیاری کی ہے ۔باقر قالیباف کے مشیر نے کہا ٹرمپ نے یکطرفہ جنگ بندی میں توسیع کی ، اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں