پنجاب:ای پروکیورمنٹ منصوبہ، بے ضابطگیوں کا انکشاف

پنجاب:ای پروکیورمنٹ منصوبہ، بے ضابطگیوں کا انکشاف

3اعشاریہ744 ملین روپے کی زائد ادائیگیاں ،اخراجات 913ملین تک جا پہنچے وفاقی سسٹم صوبائی ضروریات کے مطابق مؤثر ثابت نہیں ہوا:ایم ڈی پیپرا پنجاب

لاہور (محمد حسن رضا سے ) پنجاب میں سرکاری خریداری کے نظام کو شفاف، مؤثر اور جدید بنانے کیلئے شروع کیے گئے ای پروکیورمنٹ منصوبے میں مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے ۔ دستاویزات کے مطابق منصوبے کے مجموعی اخراجات بڑھ کر 913 ملین روپے تک جا پہنچے ہیں۔رپورٹ کے مطابق منصوبے کے آغاز میں وفاقی سطح کے سسٹم پر انحصار کیا گیا، تاہم یہ ماڈل صوبائی ضروریات کے مطابق مؤثر ثابت نہ ہو سکا۔ ای پروکیورمنٹ سسٹم کی کارکردگی کے حوالے سے بھی سنگین مسائل سامنے آئے ، جن میں سکیورٹی، پرفارمنس اور کمپلائنس سے متعلق خامیاں شامل ہیں۔ایم ڈی پیپرا پنجاب صاحبزادی وسیمہ عمر نے بھی ان مسائل کا باضابطہ اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی سسٹم صوبائی ضروریات سے ہم آہنگ نہیں تھا۔ مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ منصوبے میں 3اعشاریہ 744 ملین روپے کی زائد ادائیگیوں کا انکشاف ہوا، جس کی ریکوری کے احکامات جاری کر دئیے گئے ہیں۔

مزید برآں سرکاری خزانے سے زائد تنخواہوں کی ادائیگی بھی سامنے آئی ہے ، جس پر متعلقہ افسروں سے رقم کی واپسی کی ہدایت کی گئی ہے ۔ ہیومن ریسورس کے شعبے میں بھی غیر معمولی اخراجات کی نشاندہی ہوئی ہے ، جبکہ منصوبے کی تکمیل میں تاخیر بھی سامنے آئی ہے ۔دستاویزات کے مطابق منصوبے کی مدت میں توسیع کرتے ہوئے اس کی تکمیل 2028 تک مؤخر کر دی گئی ہے ۔ رپورٹ میں یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ ای پروکیورمنٹ کے ذریعے سرکاری خریداری کے نظام میں وہ بہتری نہیں آ سکی جس کا دعویٰ کیا جا رہا تھا، جبکہ اخراجات، تنخواہوں اور افرادی قوت کا دباؤ مسلسل بڑھتا رہا۔حکام کے مطابق منصوبے کو ازسرِ نو بہتر بنانے کیلئے ریوائز کیا جا رہا ہے تاکہ اسے آئندہ صوبائی ضروریات کے مطابق زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں