مذاکرات کل ممکن : ٹرمپ، ایران نے پہلی بار 2 غیر ملکی بحری جہاز قبضے میں لے لیے
یونانی کمپنی کا لائبیرین پرچم بردار جہاز ایپامینونڈاس ،پاناما کے پرچم والا ایم ایس سی فرانسسکاتحویل میں لیا ، اماراتی کمپنی کا جہاز یوفوریا بچ نکلا، آبنائے ہرمز پر ایرانی گرفت مزید مضبوط،بیلسٹک میزائلوں کی نمائش میں اپنے کنٹرول کا واشگاف اظہار آنکھ کے بدلے آنکھ، آئل ٹینکر کے بدلے آئل ٹینکر:ابراہیم رضائی،مکمل جنگ بندی تبھی قبول جب ناکہ بندی ختم ہو:قالیباف،قیادت میں اختلافات کی خبریں مسترد،پاکستان مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے کوشاں،حزب اللہ کا اسرائیلی فوج پر حملہ
واشنگٹن ،تہران ( نیوز ایجنسیاں )امریکی صدر ڈونلڈ ٹر مپ نے اگلے 36 سے 72 گھنٹوں میں امریکا ایران مذاکرات کو ممکن قرار دیا ہے ۔نیو یارک پوسٹ سے وابستہ صحافی کیٹلن ڈورنبوس نے کہا ہے کہ انھیں ٹرمپ اور پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ بات چیت جمعہ کو بھی ممکن ہے ۔ادھر ایران نے بدھ کے روز آبنائے ہرمز میں دو جہازوں کو قبضے میں لے لیا، جس سے اس اہم سمندری راستے پر اس کی گرفت مزید سخت ہو گئی ہے ۔ ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق، پاسداران انقلاب نے دو جہازوں کو سمندری قوانین کی خلاف ورزی پر قبضے میں لیا اور انہیں ایرانی ساحل کی طرف لے گئے ۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ایران نے جنگ کے آغاز (فروری کے آخر) کے بعد کوئی جہاز قبضے میں لیا ہے ۔ جن دو جہازوں کو قبضے میں لیا گیا ، ان پر الزام لگایا ہے کہ وہ بغیر اجازت کے چل رہے تھے۔
ایپامینونڈاس جہاز لائبیریا کے پرچم کے تحت چل رہا تھا اور اسے یونان کی ایک شپنگ کمپنی آپریٹ کر رہی تھی۔ اس پر فائرنگ بھی کی گئی اور بعد میں اسے تحویل میں لے کر ایرانی ساحل کی طرف لے جایا گیا۔ایم ایس سی فرانسسکا پاناما کے پرچم والا کنٹینر جہاز تھا، جسے دنیا کی بڑی شپنگ کمپنی MSC چلا رہی ہے، اسے بھی تحویل میں لے کر ایران کے ساحل کی طرف منتقل کر دیا گیا۔یوفوریا جہاز پاناما کے پرچم کے تحت چل رہا تھا اور متحدہ عرب امارات میں قائم ایک کمپنی کی ملکیت تھا۔ اسے اسی علاقے میں نشانہ بنایا گیا لیکن یہ محفوظ رہا اور کسی قسم کے نقصان کے بغیر اپنا سفر جاری رکھ سکا۔ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا ہے کہ حکومت امریکا کی کارروائیوں کا جواب دے رہی ہے ۔سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ابراہیم رضائی نے کہا کہ ‘آنکھ کے بدلے آنکھ، آئل ٹینکر کے بدلے آئل ٹینکر’۔ایران نے منگل کی شام تہران میں ایک فوجی پریڈ میں اپنے کچھ بیلسٹک میزائلوں کی نمائش کی ۔ اس پریڈ کو ریاستی ٹی وی پر نشر کیا گیا، جہاں بڑی تعداد میں لوگ ایرانی پرچم لہرا رہے تھے۔
پس منظر میں ایک بڑا بینر بھی تھا جس پر ایک مٹھی کو آبنائے ہرمز کا گلا دبوچے دکھایا گیا تھا۔ بینر پر لکھے الفاظ:Indefinitely under Iran‘s Control غیر معینہ مدت تک ایران کے کنٹرول میںTrump could not do a damn thing ٹرمپ کچھ بھی نہیں کر سکاپاکستان، جو اس معاملے میں ثالث کا کر دار ادا کر رہا ہے ، اب بھی دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ مذاکراتی تیاریوں سے آگاہ ایک پاکستانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا:ہم سب مذاکرات کے لیے تیار تھے ، اس کے لیے مکمل انتظامات ہو چکے تھے ۔ اگر سچ پوچھیں تو یہ ہمارے لیے ایک غیر متوقع جھٹکا تھا، کیونکہ ایران نے کبھی انکار نہیں کیا تھا، وہ آنے اور شامل ہونے کے لیے تیار تھے ، اور اب بھی ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ مکمل جنگ بندی اسی صورت قابلِ قبول ہے جب سمندری ناکہ بندی ختم ہو۔باقر قالیباف نے مزید کہا کہ آگے بڑھنے کا واحد راستہ ایرانی قوم کے حقوق کو تسلیم کرنا ہے ۔ایران کے صدارتی دفتر کے نائب ترجمان نے ایرانی قیادت کے اندر اختلافات کی خبروں کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اپنے قومی مفادات کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے ۔ انھوں نے پاکستان کی مثبت کوششوں اور خطے میں امن کے لیے ثالثی کردار کو سراہا۔ حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے جواب میں جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج پر حملہ کیا۔