آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی نے تناؤ کی طرف دھکیل دیا
مذاکراتی عمل کی بحالی ممکن تو ہے مگر اس کیلئے دونوں فریقین کو لچک دکھانا ہوگی
(تجزیہ :سلمان غنی )
امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی اور خصوصاً مذاکراتی عمل کی نتیجہ خیزی کیلئے کی جانے والی کوششوں کی رفتار سست پڑتی دکھائی دے رہی ہے ۔ پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت اب بھی مذاکرات کے دوسرے مرحلے کیلئے کوشاں ہے تاہم ایران امریکی طرزِ عمل بالخصوص ناکہ بندی کو بنیاد بنا کر مذاکرات سے گریزاں ہے ۔ ایرانی مؤقف واضح ہے کہ وہ دھمکیوں کے سائے میں بات چیت قبول نہیں کرے گا، دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی میں توسیع کے باوجود ایک بڑے معاہدے کی بات کرتے ہیں، بصورت دیگر ایران کو حملے کی دھمکی دیتے نظر آتے ہیں۔
مجموعی طور پر حالات یہ بتاتے ہیں کہ مذاکراتی عمل کی بحالی ممکن تو ہے مگر اس کیلئے دونوں فریقین کو لچک دکھانا ہوگی، بصورت دیگر کشیدگی میں اضافہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کیلئے بھی سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے ۔پاکستانی قیادت خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اپیل پر امریکا نے جنگ بندی میں توسیع تو کر دی مگر ایران اس توسیع پر آمادہ دکھائی نہیں دیتا اور مذاکرات کی بحالی سے بھی گریزاں ہے ۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ امریکا مذاکرات کیلئے تیار کیوں ہے اور ایران اس سے دور کیوں بھاگ رہا ہے ، یہ عمل کب اور کیسے بحال ہو سکتا ہے ۔
امریکی حکمت عملی کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ اندرونی و بیرونی دباؤ کے باعث مذاکرات کی بات کر رہے ہیں۔ عالمی سطح پر بڑی طاقتوں اور خود امریکا کے اندر بھی ایران سے جنگ کی مخالفت پائی جاتی ہے ، لہٰذا ٹرمپ ایک باوقار راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس ایران میں اعتدال پسند قیادت شدت پسند حلقوں کے دباؤ میں دکھائی دیتی ہے جو امریکا کو شیطانِ کبیر قرار دیتے ہوئے سخت مؤقف اپنانے پر زور دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران جنگ بندی میں توسیع اور مذاکرات دونوں سے ہچکچاہٹ کا شکار ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ جنگ بندی اور مذاکراتی عمل صرف امریکا اور ایران ہی کیلئے نہیں بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کیلئے ناگزیر ہے ۔
اگر پاکستان کی کوششوں پر امریکا جنگ بندی بڑھا سکتا ہے تو ایران کی جانب سے اسی نوعیت کی لچک کیوں نہیں دکھائی جا رہی؟ ،اس کی ایک بڑی وجہ امریکا پر عدم اعتماد ہے ۔ ایران ماضی میں قطر اور عمان کے ذریعے ہونے والے مذاکرات کے باوجود اپنے خلاف کارروائیوں کو ایک منفی پیغام سمجھتا ہے اور اسی لئے وہ امریکی یقین دہانیوں پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں۔پاکستان کی سفارتی کوششیں اس تمام عمل میں نمایاں رہی ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ تہران کے بعد ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ایک مثبت اشارہ تھا تاہم امریکا کی جانب سے ناکہ بندی برقرار رکھنے نے صورتحال کو دوبارہ کشیدہ بنا دیا، یہی وہ نکتہ ہے جس نے معاملات کو تناؤ کی طرف دھکیل دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھرپور کوشش کی کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لایا جائے ، مگر ایران کا مؤقف ہے کہ اگر امریکا ناکہ بندی ختم نہیں کرتا تو اعتماد کیسے بحال ہو سکتا ہے ۔
ایک اہم سوال معاہدے کے ممکنہ ضامن کا بھی ہے ، ایران کو خدشہ ہے کہ اگر پاکستان کی کوششوں سے کوئی معاہدہ ہو بھی جائے تو اس کی ضمانت کون دے گا کیونکہ پاکستان سہولت کار تو ہو سکتا ہے مگر گارنٹر نہیں۔ ادھر اطلاعات یہ بھی ہیں کہ پسِ پردہ سفارتی حلقے امریکا پر ناکہ بندی ختم کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں اور امکان ہے کہ امریکا اس سمت میں پیش رفت کرے مگر اس کیلئے وقت نہایت اہم ہے کیونکہ خلیجی پانیوں میں کشیدگی بڑھنے کے آثار بھی سامنے آ رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق اس وقت مذاکرات امریکا کی ضرورت بن چکے ہیں جبکہ ایران کو بھی بالآخر اسی راستے پر آنا ہوگا۔ ایران اگر مذاکرات سے مسلسل گریز کرتا ہے تو یہ اس کی کمزوری کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے تاہم ایران آبنائے ہرمز کو اپنی سلامتی کا اہم جزو قرار دیتے ہوئے اس پر کسی قسم کی لچک دکھانے کو تیار نہیں۔اگر امریکی حکمت عملی کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو اب تک ایران کے خلاف اس کے مقاصد حاصل نہیں ہو سکے ۔ نہ رجیم چینج ممکن ہوا، نہ جوہری پروگرام پر مؤثر قدغن لگ سکی اور نہ ہی عسکری دباؤ مطلوبہ نتائج دے سکا۔
عسکری ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر امریکا نے زمینی کارروائی کی کوشش کی تو یہ صدر ٹرمپ کیلئے سیاسی طور پر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے ۔جہاں تک پاکستان کے کردار کا تعلق ہے ، تو وہ ایک نازک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ پاکستان نہ ایران سے تعلقات خراب کرنے کا متحمل ہو سکتا ہے اور نہ ہی امریکا کی ناراضی مول لے سکتا ہے ۔ اس کے باوجود پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششیں ظاہر کرتی ہیں کہ وہ اس عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہے کیونکہ امریکاایران مفاہمت پاکستان کی سفارتی اور معاشی اہمیت میں اضافہ کر سکتی ہے تاہم زمینی حقائق یہ ہیں کہ مذاکرات کی بحالی میں تاخیر نہ صرف خطے بلکہ خود پاکستان کے اندر بھی بے چینی کو بڑھا رہی ہے ۔ اسلام آباد میں سکیورٹی اقدامات، راستوں کی بندش اور غیر معمولی صورتحال کے باعث شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ حکومت سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ داخلی صورتحال کو بھی معمول پر لانے کیلئے اقدامات کرے تاکہ روزمرہ زندگی متاثر نہ ہو۔