آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول، اسرائیل کی سخت دھمکی، امریکی بحریہ کا سربراہ برطرف
آبنائے ہرمز پر واشنگٹن کا مکمل کنٹرول، یہ ایران کیساتھ کسی معاہدہ تک بند رہے گی:ٹرمپ، بارودی سرنگیں بچھانے والی ہر کشتی تباہ کرنیکا حکم، ایران سے تیل لانیوالا ایک اور جہاز روک لیا،دوبارہ جنگ کیلئے گرین سگنل کا انتظار:اسرائیلی وزیردفاع ٹرمپ کے قریبی ساتھی جان فیلن کی جگہ ہنگ کاؤ قائم مقام سربراہ امریکی بحریہ مقرر، ایرانی کمانڈوز کی 2تجارتی جہازوں پر قبضے کی ویڈیو جاری،جہازوں پر عائد ٹول سے حاصل پہلی آمدنی ایران کے مرکزی بینک کو منتقل،تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ
دبئی،اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں )ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی مضبوط گرفت ظاہر کر نے کیلئے ویڈیو جاری کر دی ہے ۔ایرانی کمانڈوز کو 2تجارتی جہازوں کو قبضے میں لیتے دیکھا جا سکتا ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول واشنگٹن کے پاس ہے ، اور کہا کہ یہ اس وقت تک بند رہے گی جب تک ایران کسی معاہدے تک نہیں پہنچ جاتا۔ٹرمپ اور امریکی فوجی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی بحریہ سمندر کی تہہ میں جا چکی ہے ، تاہم ایران کے تیز رفتار بحری جہاز ( سپیڈ بوٹس) یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اب بھی بحری تجارت میں خلل ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز امریکی بحریہ کو حکم دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کسی بھی ایرانی کشتی کو تباہ کر دے ۔امریکی محکمہ دفاع نے ایکس پر ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی افواج نے بحرِ ہند میں ایران سے تیل لے جانے والے پابندیوں کے شکار جہاز ایم/ٹی مجیسٹک جو کسی ریاست کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہے ، کو روکا اور اس پر سوار ہو کر تلاشی لی۔ امریکی افواج نے جہاز پر سمندری مداخلت اور حقِ تفتیش کے تحت سوار ہو کر کارروائی کی۔امریکی فوج نے کہا ہے کہ ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد اب تک 33 جہازوں کا رخ تبدیل کیا جا چکا ہے ۔
ایران کی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجئی نے کہا ہے کہ جن تجارتی جہازوں کو ایران نے قبضے میں لیا ہے وہ قانون کے سامنے جوابدہ ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق ایرانی تیز رفتار کشتیاں اور سمندری ڈرونز ایک جزیرے کے قریب سمندری غاروں میں چھپے ہوئے ہیں تاکہ امریکی بحریہ ان تک رسائی حاصل نہ کر سکے ۔ایرانی پارلیمنٹ کے نائب سپیکر حمید رضا حاجی بابائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے وصول کیے جانے والے ٹول (فیس) سے حاصل ہونے والی پہلی آمدنی ایران کے مرکزی بینک کو منتقل کر دی گئی ہے تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ رقم کس نے ادا کی یا اس کی مقدار کیا تھی۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور مرکزی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ایرانی قیادت سخت گیروں اور اعتدال پسندوں میں بٹی ہوئی نہیں ہے بلکہ یہ متحد ہے ۔ قبل ازیں ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی قیادت دھڑوں کی اندرونی کشمکش کا شکار ہے ۔ ایران کو یہ طے کرنے میں ‘بہت مشکل پیش آ رہی ہے کہ اس کا لیڈر کون ہے ۔’ٹرمپ نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ ملک میں ‘انتہائی پاگل پن’ پر مبنی اندرونی لڑائی جاری ہے جس میں ‘سخت گیر’ اور ‘اعتدال پسند’ دھڑے آمنے سامنے ہیں۔
پزشکیان اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر قالیباف نے جواب دیا کہ ایران میں ‘ کوئی انتہا پسند ہیں اور نہ ہی اعتدال پسند۔’بیان میں کہا گیا ہے ‘ہم سب ‘ایرانی’ اور ‘انقلابی’ ہیں، قوم و حکومت کی فولادی یکجہتی کے ساتھ اور رہبر اعلیٰ کی مکمل اطاعت کے ساتھ۔’بیان کے مطابق ‘ہم جارحیت کرنے والے مجرم کو اس کے اقدامات پر پچھتانے پر مجبور کر دیں گے ۔’علاوہ ازیں اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے اور اسے ‘تاریکی اور پتھر کے دور’ میں واپس دھکیل سکتا ہے ۔ان کے مطابق اسرائیلی فوج ‘امر یکا کی جانب سے گرین سگنل کا انتظار کر رہی ہے ، اگر جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے تو اس کا آغاز ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو نشانہ بنانے سے کیا جائے گا ۔
آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے تعطل نے مالیاتی منڈیوں کو غیر یقینی صورتحال میں ڈال دیا ہے چونکہ توانائی کے بحران کے حل کا کوئی واضح راستہ نظر نہیں آ رہا، تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھ رہی ہیں، لیکن ساتھ ہی لڑائی وقتی طور پر رکنے کے باعث کچھ بازاروں میں حصص کی قیمتیں تیزی سے اوپر بھی گئی ہیں۔برینٹ کروڈ کی قیمت جمعرات کے روز 1.5 فیصد اضافے کے ساتھ 103.5 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ایس اینڈ پی گلوبل پی ایم آئی انڈیکس بتاتا ہے کہ یورپی معیشت 16 ماہ میں پہلی بار سکڑ گئی ہے ۔اب تک واشنگٹن وہ اہداف حاصل نہیں کر سکا جو صدر ٹرمپ نے جنگ کے آغاز میں بیان کیے تھے : یعنی ایران کی اپنے ہمسایہ ممالک پر حملہ کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنا، اس کے جوہری پروگرام کا خاتمہ، اور اس کے عوام کے لیے اپنی حکومت کو گرانا آسان بنانا۔رپورٹ کے مطابق ایران نے اب بھی ایسے میزائل اور ڈرونز محفوظ رکھے ہیں جو اس کے ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور اس کے پاس انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ بھی موجود ہے۔
واشنگٹن (رائٹرز)امریکی بحریہ کے سیکرٹری جان فیلن کو برطرف کر دیا گیا ہے ۔ یہ اقدام پینٹاگون میں جاری جنگی حالات کے دوران ایک اور بڑی تبدیلی کے طور پر سامنے آیا ہے ، اور یہ اس وقت ہوا جب چند ہفتے قبل وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے امریکی فوج (آرمی)کے اعلیٰ ترین جنرل کو بھی عہدے سے ہٹا دیا تھا۔پینٹاگون نے ایک مختصر بیان میں ان کی رخصتی کا اعلان کیا ۔تاہم بیان میں اس فیصلے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ۔ رائٹرز کے مطابق فیلن کو جزوی طور پر اس وجہ سے ہٹایا گیا کیونکہ وہ جہاز سازی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اصلاحات نافذ کرنے میں سست روی کا شکار تھے اور پینٹاگون کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ان کے تعلقات بھی خراب ہو گئے تھے۔ ایک ذریعے کے مطابق، ان کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ، ان کے نائب سٹیو فائنبرگ، اور بحریہ کے دوسرے اعلیٰ سویلین عہدیدار ہنگ کاؤ کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں تھے ۔
پینٹاگون کے مطابق اب ہنگ کاؤ بحریہ کے قائم مقام سیکرٹری کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے ۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ فیلن کے دفتر کے خلاف ایک اخلاقی بنیادوں پر تحقیقات بھی جاری تھیں۔ارب پتی کاروباری شخصیت اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی سمجھے جانے والے فیلن، ٹرمپ کے گزشتہ سال دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ایسے پہلے سروس سیکرٹری ہیں جنہیں عہدے سے ہٹایا گیا ہے ۔ان کی رخصتی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کی نگرانی میں پینٹاگون کی قیادت کے مختلف سطحوں پر جاری وسیع تر ہلچل کے تناظر میں دیکھی جا رہی ہے ۔ اس میں گزشتہ سال جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین، فضائیہ کے جنرل سی کیو براؤن، کو برطرف کرنا بھی شامل ہے ، جبکہ چیف آف نیول آپریشنز اور فضائیہ کے نائب چیف آف سٹاف کو بھی عہدوں سے ہٹایا جا چکا ہے ۔ امریکی بحریہ اس وقت اپنے بیڑے کو وسعت دینے کے لیے شدید دباؤ میں ہے ۔ چین کی جہاز سازی کی صنعت اب امریکا سے کہیں بڑی ہو چکی ہے ، حالانکہ ماضی میں امریکا اس میدان میں عالمی طاقت سمجھا جاتا تھا۔
ٹرمپ کی مالی سال 2027 کے لیے 1.5 ٹریلین ڈالر کی دفاعی بجٹ تجویز میں 65 ارب ڈالر سے زائد رقم شامل ہے ، جس کے تحت 18 جنگی جہاز اور 16 معاون جہاز خریدنے کا منصوبہ ہے ۔ یہ جہاز جنرل ڈائنامکس اور ہنٹنگٹن انگلز انڈسٹریز تیار کریں گی۔یہ منصوبہ پینٹاگون کے مطابق گولڈن فلیٹ اقدام کا حصہ ہے ، جسے حکام 1962 کے بعد جہاز سازی کا سب سے بڑا پروگرام قرار دے رہے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق سیکرٹری کا کردار بڑی حد تک انتظامی ہوتا ہے اور اس عہدے پر تعینات شخص کی ذمہ داریوں میں بحریہ میں مختلف پالیسیاں تشکیل دینا، بھرتیاں کرنا، تربیت دینا اور ملکی بحریہ کو مسلح کرنے کے ساتھ ساتھ بجٹ اور لاجسٹکس کی نگرانی جیسے تعمیرات اور بحری جہازوں کی مرمت شامل ہوتی ہے ۔
بحریہ کے سیکرٹری کے طور پر جان سی فیلن کی ذمہ داریوں میں امریکی بحریہ اور میرین کور سمیت تقریباً دس لاکھ فوجی اہلکاروں اور سول ملازمین کی نگرانی شامل تھی۔سیکرٹری بحریہ کے عہدے پر فائز ہونے سے پہلے فیلن ایک سویلین تھے ، جنھوں نے اس سے قبل فوج میں خدمات سر انجام نہیں دی تھیں۔سنہ 2024 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نامزد کیے جانے کے بعد فیلن نے مارچ 2025 میں بحریہ کے سیکرٹری کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔بحیثیت ایک کاروباری شخصیت کے فیلن، ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں ایک بڑے ڈونر تھے ۔امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان کے مطابق امریکا کے انڈر سیکرٹری ہنگ کاؤ کو اب قائم مقام سیکرٹری مقرر کیا گیا ہے ۔ ایک مباحثے کے دوران کاؤ نے کہا تھا کہ ‘ہمیں ایسے ایلفا مردوں اور ایلفا عورتوں کی ضرورت ہے ، جو اپنی ہی آنتیں نکال کر انھیں کھا جائیں۔ ایسے نوجوان مرد اور عورتیں ہی جنگیں جیتنے والے ہیں۔