قیام امن کی کوششیں جاری، امریکا اور ایران کو جلد مذاکرات کی میز پر لائیں گے : شہباز شریف
مذاکرات بحالی کیلئے مشاورتی اجلاس ، وزیر خارجہ نے رابطوں بارے بریفنگ دی ، پائیدار امن کیلئے سفارتی مکالمہ ناگزیر آئندہ سرکاری استعمال کیلئے صرف الیکٹرک بسیں موٹر سائیکلیں خریدنے کا حکم ، خلابازوں اور چینی سفیر کی ملاقات
اسلام آباد (نامہ نگار ،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوزایجنسیاں)وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اہم مشاورتی اجلاس میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی کیلئے جاری سفارتی کوششوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کو جلد دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیابی حاصل ہوگی۔ وزیراعظم نے انرجی سکیورٹی سے متعلق اجلاس میں ملک میں توانائی کے پائیدار نظام کو یقینی بنانے کیلئے اہم فیصلے کرتے ہوئے آئندہ سرکاری استعمال کیلئے صرف برقی بسیں اور موٹر سائیکلیں خریدنے، الیکٹرک وہیکلز کے چارجنگ سٹیشنز کے قیام میں تیزی لانے اور شمسی توانائی کی اضافی بجلی کے ذخیرہ کیلئے بیٹری سسٹم کو فروغ دینے کا حکم دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق مشاورتی اجلاس میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی کیلئے جاری سفارتی کوششوں پر بات چیت کی گئی ۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سمیت اعلیٰ حکام شریک تھے۔ وزیر خارجہ نے مختلف ممالک کے ساتھ ہونے والے سفارتی رابطوں پر وزیراعظم کو بریفنگ دی۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خطے میں پائیدار امن کیلئے مسلسل سفارتی مکالمہ ناگزیر ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کیلئے اپنی کوششیں تسلسل کے ساتھ جاری رکھے گا اور علاقائی استحکام کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔قیام امن کی کوششیں جاری ہیں ،پرامید ہیں کہ امریکا اور ایران کو جلدمذاکرات کی میز پرلائیں گے ۔دوسری جانب وزیراعظم کی زیر صدارت انرجی سکیورٹی سے متعلق اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک میں پٹرولیم کے وافر ذخائر موجود ہیں جبکہ تیل و گیس کی مقامی پیداوار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ، گرڈ سطح پر بیٹری سٹوریج کے دو تجرباتی منصوبوں پر کام جاری ہے ۔
وزیر اعظم نے کہا کہ انرجی سکیورٹی اب ملک کی مستقبل کی مجموعی منصوبہ بندی کا انتہائی اہم حصہ بن چکی ہے ، موجودہ علاقائی صورتحال میں توانائی کی بچت اور اس حوالے سے بروقت اٹھائے گئے اقدامات سے توانائی کا بحران پیدا نہیں ہوا۔ مستقبل کی توانائی کی ضروریات کے پیش نظر ملک میں خام تیل کے سٹرٹیجک ذخائر رکھنے کے حوالے سے منصوبے پر کام جاری ہے ۔علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستانی خلا بازوں خرم داؤد اور محمد ذیشان علی سے ملاقات میں کہا کہ پاکستان اور چین کا خلائی تعاون نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خلا میں تحقیق کیلئے پاکستانی خلا بازوں کا جانا قومی تاریخ کا اہم سنگ میل ہے اور یہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گا۔وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سائنس و ٹیکنالوجی اور خلائی تحقیق کے میدان میں ترقی کیلئے بین الاقوامی تعاون کو مزید فروغ دے گا۔
ملاقات میں پاکستانی حکام اور چین کے پاکستان میں سفیر جیانگ زائیڈونگ بھی شریک تھے ۔ وزیراعظم نے خلابازوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپکا خلائی مشن پر تحقیق کیلئے جانا پاکستان کیلئے ایک اہم سنگ میل اور مجھ سمیت پوری قوم کیلئے قابل فخر امر ہے ،پر اعتماد ہوں کہ آپ پاکستان کی تاریخ میں ایک نیا باب لکھنے جا رہے ہیں۔ خلائی تحقیق میں پاکستان اور چین کے تعاون سے دونوں ممالک کی دوستی آسمان کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے ستاروں پر کمند ڈالنے کیلئے تیار ہے ۔قبل ازیں پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائیڈونگ نے وزیرِ اعظم سے ملاقات کی۔ پاکستان اور چین کے دوطرفہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کو چین کے ساتھ سٹرٹیجک شراکت داری پر فخر ہے ۔
انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ چینی قیادت کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھیں گے تاکہ یہ تعلقات مضبوط سے مضبوط تر ہوں۔ملاقات کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور پاکستان کی امن کوششوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مون سون کی پیشگی تیاری اور موسمیاتی تغیر اور ماحولیاتی خطرات سے بچاؤ کے اقدامات پر جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے شہباز شریف نے غیر معمولی موسمیاتی تغیر اور بالخصوص گلوف سے بچاؤ کیلئے گلگت بلتستان میں نصب پیشگی وارننگ سسٹم کے مکمل طور پر فعال نہ ہونے پراظہار برہمی کیااورجامع انکوائری کے احکامات دیئے ۔وزیراعظم نے خصوصی ہدایات دیں کہ تمام متعلقہ وزارتیں اور ادارے صوبوں کے ساتھ مل کر جامع حکمت عملی کے تحت عملی اقدامات اٹھائیں اور ٹھوس کارکردگی دکھائیں،کسی بھی قسم کی نااہلی اور کارکردگی میں کمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔