2023 کے بعد پاکستان پہلی بار عالمی منڈی سے ایل این جی خریدے گا

2023 کے بعد پاکستان پہلی بار عالمی منڈی سے ایل این جی خریدے گا

3 ایل این جی کارگوز کی خریداری کیلئے سپاٹ ٹینڈر جاری، ہر کھیپ تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار مکعب میٹر کی ہوگی ایل این جی 27اپریل سے 14مئی تک کراچی پہنچانا لازم، آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث اوپن مارکیٹ گئے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)آبنائے ہرمز کی بندش کے سبب پاکستان 2023 کے بعد پہلی بار عالمی منڈی سے ایل این جی خریدے گا، پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے مائع قدرتی گیس (ایل این جی)کی کھلی منڈی سے خریداری کیلئے پہلا سپاٹ ٹینڈر جاری کر دیا،جس کے تحت بین الاقوامی فراہم کنندگان سے تین ایل این جی کارگوز کی بولیاں مانگی گئی ہیں، جن میں سے ہر کھیپ تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار مکعب میٹر کی ہو گی۔ ٹینڈر کے مطابق یہ کھیپیں 27 اپریل سے 14 مئی کے درمیان کراچی کی پورٹ قاسم بندرگاہ پر پہنچانی ہوں گی۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ایل این جی کے ٹینڈر کا مقصد بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنا اور مہنگے ڈیزل اور فرنس آئل پر انحصار کم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ قطر سے مزید کارگوز کب ملیں گے ؟یہ ٹینڈر پن بجلی میں کمی اور ایل این جی کی فراہمی میں تعطل کے باعث بجلی کی حالیہ قلت کے بعد سامنے آیا ہے جس کی وجہ سے گزشتہ ہفتے بڑے پیمانے پر بجلی کی بندش ہوئی،پاکستان کو ایل این جی کا کوئی ایسا کارگو موصول نہیں ہوا جو 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعدلوڈ کیا گیا ہو،کیونکہ جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے خلیج کو بحر ہند سے ملانے والی آبنائے ہرمز کے راستے تقریباً تمام جہاز رانی بند کر دی تھی۔پاکستان پہلے قطر سے ایل این جی کا بڑا حصہ لے رہا تھا جو کہ اپنی توانائی کی پیداوار کی ترسیل کیلئے اس آبنائے کے راستے تک رسائی پر انحصار کرتارہاہے ، کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق، قطر نے گزشتہ سال پاکستان کی جانب سے درآمد کی جانے والی 66 لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن ایل این جی کا زیادہ تر حصہ فراہم کیا تھا۔آذربائیجان کی سرکاری توانائی کمپنی سوکار نے منگل کو کہا کہ وہ اسلام آباد کی جانب سے درخواست موصول ہوتے ہی پاکستان کو ایل این جی فراہم کرنے کے لیے تیار ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں