عباس عراقچی کی اسلام آباد آمد، مذاکراتی عمل بحالی کا سگنل

عباس عراقچی کی اسلام آباد آمد، مذاکراتی عمل بحالی کا سگنل

فریقین کے بیانات میں لچک، امریکہ ایران مذاکرات میں فوری بریک تھرو مشکل

(تجزیہ: سلمان غنی)

اسلام آباد میں امریکہ۔ایران مذاکرات کی معطلی کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی آمد کو بیک ڈور ڈپلومیسی کی پیش رفت اور مذاکراتی عمل کی بحالی کا اہم اشارہ قرار دیا جا رہا ہے ۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اس امر کی غماز ہے کہ دونوں فریقین کشیدگی کم کر کے کسی قابلِ قبول معاہدے کی جانب بڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ذرائع کے مطابق عباس عراقچی کی آمد سے قبل نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلی فونک رابطے بھی ہوئے ، جس کے بعد اسلام آباد میں مذاکرات کی بحالی کی امید مزید تقویت پکڑ گئی ہے ۔ دوسری جانب امریکی حکام کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اپنے مؤقف پر قائم ہے اور ایران کے جوہری پروگرام پر سخت موقف برقرار رکھنا چاہتا ہے ۔اسلام آباد میں موجود سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ مذاکراتی عمل دوبارہ شروع ہونے کے امکانات روشن ہیں، تاہم فوری اور مکمل بریک تھرو کا امکان کم ہے ۔ ان کے مطابق پاکستان کا کردار سہولت کار کا ہے اور کوشش یہی ہے کہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لا کر خطے میں کشیدگی کا خاتمہ کیا جائے ۔ماہرین کے مطابق چین اور روس کی سفارتی کاوشوں نے بھی ایران کو مذاکرات کی طرف لانے میں کردار ادا کیا، تاہم دونوں فریقین کے درمیان مکمل اور جامع معاہدہ ابھی ایک مشکل مرحلہ ہے ۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فریقین کے بیانات میں واضح لچک نظر آ رہی ہے اور پس پردہ رابطے جاری ہیں، مگر باضابطہ مذاکرات کب اور کس سطح پر ہوں گے ، اس بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ البتہ یہ بات واضح ہے کہ اسلام آباد میں مذاکرات کا دروازہ کھلا ہے اور اب سب کی نظریں اس پر ہیں کہ فریقین کب اس میں داخل ہوتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں