سیمنٹ قیمت میں ٹیکس اورڈیوٹیزکا حصہ38فیصد تک جاپہنچا

سیمنٹ قیمت میں ٹیکس اورڈیوٹیزکا حصہ38فیصد تک جاپہنچا

ٹیکس بوجھ، ساختی کمزوریوں اور پالیسی مسائل نے تعمیراتی لاگت میں اضافہ کیا سیمنٹ کا استعمال کم ہو کر 53فیصد رہ گیا جو کمزور طلب کی نشاندہی کرتا:مسابقتی کمیشن

 اسلام آباد (دنیا نیوز، نیوز یجنسیاں )مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ملک میں سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافہ صرف طلب و رسد کا نتیجہ نہیں بلکہ ٹیکس بوجھ، ساختی کمزوریوں اور پالیسی مسائل کا مجموعہ ہے جس نے تعمیراتی لاگت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے ۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیمنٹ کی مجموعی قیمت کا تقریباً نصف حصہ مختلف ٹیکسوں اور ڈیوٹیز پر مشتمل ہے جبکہ صرف ٹیکسز اور ڈیوٹیز کا حصہ 38 فیصد تک پہنچ چکا ہے ۔ اسی وجہ سے قیمتوں میں کمی کے باوجود بوجھ برقرار ہے اور 50 کلوگرام بوری کی قیمت 822 روپے سے بڑھ کر 1091 روپے ہو گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملک میں سیمنٹ کی پیداواری صلاحیت 45.6 ملین ٹن سے بڑھ کر 84.6 ملین ٹن تک پہنچ چکی ہے ، تاہم اس کا استعمال کم ہو کر تقریباً 53 فیصد رہ گیا ہے ، جو کمزور طلب کی نشاندہی کرتا ہے ، جبکہ فی کس استعمال عالمی اوسط سے کم ہے ۔کمیشن نے نشاندہی کی ہے کہ محدود مسابقت، بڑی کمپنیوں کا اثر و رسوخ، کوئلے کی درآمد میں اجارہ داری، صوبائی ٹرانسپورٹ قوانین کے فرق اور غیر یکساں رائیلٹی نظام لاگت میں اضافے کا باعث ہیں، جبکہ سمگل شدہ اور جعلی سیمنٹ بھی مارکیٹ کے لیے خطرہ ہے ۔ کمیشن نے سیمنٹ سیکٹر میں مؤثر مسابقت کیلئے پالیسی اقدامات کی سفارش کی ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں