بلدیاتی الیکشن،سیاسی جماعتیں اتفاق رائے پیداکریں:ہائیکورٹ

بلدیاتی الیکشن،سیاسی جماعتیں اتفاق رائے پیداکریں:ہائیکورٹ

چیئرمین کو عوام نے براہ راست ووٹ نہیں دیا تو اسکی نوعیت کیا ہوگی؟:ریمارکس

لاہور (کورٹ رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر کرانے کے خلاف پی ٹی آئی، جماعت اسلامی اور دیگر کی درخواستوں پرسیاسی جماعتوں کو اتفاق رائے پیدا کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت سے معاونت طلب کرلی اور سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔سماعت کے دوران پنجاب حکومت کے وکیل نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی کاپی عدالت میں پیش کی، جس پر جسٹس سلطان تنویر احمد نے ریمارکس د یئے کہ دنیا میں یونین کونسل کی سطح پر کن ممالک میں چیئرمین کا انتخاب بالواسطہ (ان ڈائریکٹ) ہوتا ہے ؟ برطانیہ کا آئین تحریری نہیں جبکہ پاکستان کا آئین مکمل طور پر تحریری ہے اور ہر معاملہ آئین کے مطابق طے ہونا چاہیے۔

عدالت نے کہا کہ اس کے پاس آنے والا ہر سائل محترم ہے اور عدالت قانون کے مطابق ہی فیصلے کرے گی۔ جسٹس سلطان تنویر احمد نے درخواست گزاروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے مؤقف میں "غیر قانونی" جیسے الفاظ استعمال کرنے سے گریز کریں، بصورت دیگر وہ کسی اور فورم سے رجوع کریں۔انہوں نے مزید ریمارکس د یئے کہ اگر چیئرمین کو عوام نے براہ راست ووٹ نہیں دیا تو پھر ایسے انتخاب کی نوعیت کیا ہوگی۔ الیکشن جیتنا یا ہارنا اس کا دائرہ اختیار نہیں بلکہ قانون کی تشریح اس کی ذمہ داری ہے ۔عدالت نے فریقین کو ایک دوسرے کا مؤقف سننے اور تمام سیاسی جماعتوں کو باہمی مشاورت سے اتفاق رائے پیدا کرنے کا بھی مشورہ دیا اور کہا کہ عدالت معاملے کو سمجھنے کیلئے معاونت چاہتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں