اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 سینئر ججوں کا تبادلہ ، نئی عدالتوں میں جونیئر جج بن گئے
جوڈیشل کمیشن کا اجلاس، جسٹس محسن کیانی لاہور، جسٹس بابر ستار پشاور،جسٹس ثمن رفعت کاسندھ ہائیکورٹ تباد لہ تینوں ججز کے تبادلے اکثریتی ووٹ سے منظور،جسٹس ارباب ایم طاہر،جسٹس خادم حسین کے تبادلوں کی تجویز واپس تبادلے کے بعد سنیارٹی لسٹ میں جسٹس محسن کیانی بارہویں،جسٹس بابرستار چھٹے ،جسٹس ثمن رفعت سولہویں نمبر پر
اسلام آباد (اپنے نامہ نگارسے ،کورٹ رپورٹر،دنیا نیوز،اے پی پی)جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے اکثریتی رائے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججوں کے دیگر ہائی کورٹس میں تبادلوں کی منظوری دے دی،جاری اعلامیہ کے مطابق جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا یہ اجلاس سپریم کورٹ آف پاکستان میں منعقد ہوا جس کی صدارت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیی آفریدی نے بطور چیئرمین کمیشن کی،اجلاس آرٹیکل 175A(22) کے تحت کمیشن کے سیکرٹری نے طلب کیا، جبکہ چیئرمین نے کمیشن کے ایک تہائی اراکین کی جانب سے دی گئی ریکوزیشن پر اجلاس بلانے سے معذرت کی تھی،آئینی تقاضوں کے مطابق متعلقہ ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان نے بھی بطور رکن اجلاس میں شرکت کی اور ہر مجوزہ تبادلے پر غور کیا گیا۔فیصلوں کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی کے اسلام آباد ہائی کورٹ سے لاہور ہائی کورٹ، جسٹس بابر ستار کے پشاور ہائی کورٹ اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے سندھ ہائی کورٹ تبادلے کی منظوری دی گئی، تینوں تبادلے اکثریتی ووٹ سے منظور کئے گئے۔
کمیشن نے نوٹ کیا کہ جسٹس ارباب ایم طاہر کو بلوچستان ہائی کورٹ اور جسٹس خادم حسین سومرو کو سندھ ہائی کورٹ منتقل کرنے کی تجاویز وہ اراکین واپس لے چکے ہیں جنہوں نے ابتدائی طور پر اجلاس طلب کرنے کی درخواست دی تھی۔جس کے بعد ان کے تبادلوں کا معاملہ مؤخر ہو گیا ہے ،مزید برآں اعلامیہ کے مطابق کمیشن نے مجموعی اکثریت سے یہ بھی فیصلہ کیا کہ ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ میں جج کے تبادلے سے پیدا ہونے والی کسی بھی اسامی کو صرف تبادلے کے ذریعے ہی پر کیا جائے گا اور اسے نئی تقرری کے لیے خالی اسامی تصور نہیں کیا جائے گا،یہ اجلاس ملک بھر کی ہائی کورٹس میں عدالتی وسائل کے موثر استعمال اور ادارہ جاتی ضروریات کو پورا کرنے کی جاری کوششوں کا عکاس ہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جسٹس محسن اختر کیانی کے تبادلے کے حق میں 9 ارکان نے ووٹ دیا۔
جسٹس بابر ستار کے تبادلے کے خلاف 3 ووٹ آئے ، جوڈیشل کمیشن اجلاس سے پہلے جسٹس بابر ستار نے سربراہ جوڈیشل کمیشن چیف جسٹس یحیی آفریدی کے نام خط لکھا اور ٹرانسفر معاملے پر انہیں ذاتی طور سننے کی استدعا کی تھی ،انہوں نے خط میں کہا کہ آرٹیکل 200 کے تحت ٹرانسفر معاملے سے پہلے کمیشن اجلاس میں مجھے سنا جائے ،موقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے تاہم اس خط پر پیشرفت نہ ہوسکی ۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر کی جانب سے 5 ممبران کی ریکوزیشن پر اجلاس بلایا گیا تھا ۔ادھرجوڈیشل کمیشن اجلاس میں تبادلوں کی منظوری سے متعلق اطلاع کے بعد جسٹس ثمن رفعت امتیاز اسلام آباد ہائی کورٹ سے روانہ ہوگئیں،ذرائع کے مطابق جسٹس ثمن رفعت نے اپنا ذاتی سامان چیمبر سے پہلے ہی گھر منتقل کردیا تھا ،ہائیکورٹ سے روانگی سے قبل جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے اپنے سٹاف سے الوداعی ملاقات کی اور ان سے کہاکہ آپ سب کے ساتھ بہت اچھا وقت گزرا، جسٹس محسن اختر کیانی جوڈیشل کونسل کے اجلاس کے دوران ہی جوڈیشل ورک مکمل کرکے گھر چلے گئے ، ذرائع کا یہ بھی کہناتھا کہ جسٹس خادم حسین سومرو شام گئے تک اپنے چیمبر میں موجود رہے اور چیمبر ورک کیا۔
لاہور (محمد اشفاق سے )اسلام آبادہائی کورٹ کے ٹرانسفر ہونے والے تین ججز سنیارٹی لسٹ میں تینوں صوبوں میں جونیئر جج بن گئے ۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس محسن اختر کیانی کا اسلام آباد ہائی کورٹ میں سنیارٹی لسٹ میں دوسرا نمبر ہے ان کا تبادلہ لاہور ہائی کورٹ میں کیا گیا ہے جہاں سنیارٹی لسٹ میں اب ان کا بارہواں نمبر ہوگا ، جسٹس بابر ستار جو اسلام آباد ہائی کورٹ میں سنیارٹی لسٹ میں تیسرے نمبر پر ہیں ان کا تبادلہ پشاور ہائی کورٹ کیا گیا ہے اور وہاں جسٹس بابر ستار سنیارٹی لسٹ میں چھٹے نمبر ہوں گے جبکہ جسٹس ثمن رفعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں سنیارٹی لسٹ کے مطابق چھٹے نمبر پر تھیں ان کا سندھ ہائی کورٹ میں سنیارٹی لسٹ کے مطابق 16واں نمبر ہوگا ، تینوں ججز کے پنجاب ،سندھ اور خیبر پختونخوا میں تبادلوں کے بعد وہ اب بطور جونیئر جج کیسز کی سماعت کریں گے جبکہ جسٹس بابر ستار پشاور ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی کا حصہ بن جائیں گے ، جسٹس محسن اختر کیانی کے لاہور ہائی کورٹ میں تبادلے کے باعث ججز کی تعداد بھی 42 ہو جائے گی۔