ایچ آئی وی کیسز میں اضافہ،رفتار برقرار رہنے کا خدشہ
ملک میں اڑھائی لاکھ افراد ایچ آئی وی کیساتھ زندگی گزار رہے، شرح علاج کم صوبہ سندھ میں بچے زیادہ متاثر ، پنجاب مریضوں کے لحاظ سے سب سے آگے سکریننگ سے چھپے کیسز سامنے آنے لگے ، خون کی منتقلی خطرے کی بڑی وجہ
لاہور (سجاد کاظمی سے ) پاکستان میں ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد 210,000 سے 250,000 کے درمیان بتائی جاتی ہے جبکہ بعض ذرائع کے مطابق یہ تعداد 350,000 تک بھی ہو سکتی ہے ۔ سرکاری اور تحقیقی اعداد و شمار کے مطابق رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد تقریباً 76,000 ہے جبکہ مجموعی مریضوں میں سے صرف 16 سے 21 فیصد باقاعدہ علاج حاصل کر رہے ہیں۔ 2024 میں تقریباً 48,000 نئے کیسز سامنے آئے اور 2026 میں بھی اس رفتار کے برقرار رہنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق پنجاب میں ملک کے سب سے زیادہ 48 مراکز فعال ہیں جبکہ ملک کے کل ایچ آئی وی مریضوں میں سے تقریباً 50 فیصد پنجاب میں ہیں۔ پنجاب میں رجسٹرڈ بالغ مریضوں کی تعداد 35,000 سے تجاوز کر چکی ہے ۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق تونسہ اور گردونواح میں 331 بچے متاثر پائے گئے۔
کارکردگی کے حوالے سے جنوری سے مارچ 2026 کے دوران ان مراکز میں 97,000 سے زائد افراد کی سکریننگ کی گئی جبکہ ہر ماہ اوسطاً 700 سے 900 نئے مریض رجسٹر ہو رہے ہیں۔سندھ اس وقت سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ تصور کیا جا رہا ہے ، خصوصاً بچوں کے حوالے سے جہاں ملک کے 43 فیصد مریض موجود ہیں۔ جنوری سے مارچ 2026 کے دوران 894 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 329 بچے (14 سال سے کم عمر)شامل ہیں۔ کراچی میں علاج چھوڑنے والے 2,000 مریضوں کو دوبارہ سسٹم میں شامل کیا گیا ۔بلوچستان میں دیگر صوبوں کے مقابلے میں ڈیٹا محدود ہے تاہم انفیکشن کی شرح میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور مریضوں کی تعداد کا تخمینہ 7,000 سے 10,000 کے درمیان ہے۔
یہاں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ انجکشن کے ذریعے نشہ کرنیوالے افراد ہیں۔ذرائع کے مطابق اپریل 2026 میں ہسپتالوں میں کیسز کی رجسٹریشن میں اضافہ کسی بڑے آؤٹ بریک کی بجائے سکریننگ میں اضافے کا نتیجہ ہے ۔ وفاقی حکومت نے اسلام آباد اور بڑے شہروں میں سرجری سے قبل ایچ آئی وی ٹیسٹ لازمی قرار دیا ہے جس سے چھپے ہوئے کیسز سامنے آ رہے ہیں، یہی صورتحال پنجاب میں بھی دیکھنے میں آ رہی ہے ۔ملک بھر میں خون کے عطیات کی سو فیصد سکریننگ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے کیونکہ 2 سے 3 فیصد نئے کیسز غیر محفوظ خون کی منتقلی پرسامنے آ رہے ہیں۔ پنجاب میں 48 مراکز کا نیٹ ورک سب سے بڑا ہے جبکہ سندھ میں بچوں میں کیسز کی شرح تشویشناک حد تک زیادہ ہے ۔